Girls why do you do this???
Misbah's Achievement :)
Who Wanna Go On a Study Tour...
VIP Transport Service of Pakistan...
Starbucks in Pakistan :D
Guess who :D
Ramzan Totka by Zubaida Aapa
Advantages of Name :P
مختلف اقوام کے لوگ اپنی اپنی روایت کے مطابق بچوں کے نام رکھتے ہیں۔ چین ہی کو دیکھ لیجئے وہاں غالباً بچے کی پیدائش کے وقت بچے کے سرہانے پڑی ہوئی کوئی چیز نیچے پھینک دی جاتی ہے، اس کے گرنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے وہی بچے کا نام رکھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً….اگر چمچ گرے تو "چھن چھنگ" اور اگر گلاس گرے تو۔ "پانگ ٹنگ"….خدانخواستہ اگر یہی طریقہ ہمارے ہاں بھی رائج ہوجائے تو کیا ہوگا۔ ہمارے ہاں تو بچے کے سرہانے چیزیں ہی بڑی عجیب رکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ مثلاً لوہے کا ٹکڑا….کہ بچہ ڈر نہ جائے….چاولوں کی تھیلی….کہ بچے کا سر صحیح بنے….خدا گواہ ہے کہ اگر ان چیزوں میں سے کوئی چیز نیچے گرائی جائے تو بچے کا نام رکھنا پڑے گا…."چوہدری دھم ٹھک۔"
آج کل ہمارے ہاں بلکہ پوری دنیا میں اسلامی لوگ بچوں کا نام اسامہ رکھ رہے ہیں۔ میرے ایک دوست نے بھی اپنے نومولود کا نام اسامہ رکھا، عقیدت کی انتہا دیکھئے کہ بنا غور کیے ساتھ "بن لادن" بھی لگایا ہوا ہے۔ میں نے کہا۔ جناب آپ کا نام تو سرفراز ہے تو پھر آپ کا بچہ "بن لادن" کیسے ہوگیا۔ انہوں نے خوفزدہ ہوتے ہوئے فوراً بچے کا نام کردیا۔ "اسامہ بن لادن بن سرفراز"۔ میرا ایک دوست کہتا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے۔ میں نے کہا اگر نام میں کچھ نہیں رکھا تو تم گدھا کہنے پر مائنڈ کیوں کرتے ہو!
جناب قارئین جی! شادی کے بعد عورت اپنے نام کے بعد اپنے مرد کا نام لگاتی ہے خود ہی سوچئے کہ اگر عورت کا نام اور مرد کا نام ایک دوسرے کی ضد ہوں تو عورت کا نام کتنا برا لگے گا۔ مثلاً….مہہ جبین دتہ….شہلا ڈوایا….فریحہ بوٹا….یا یوں کہہ لیجئے کہ مسز دتہ، مسز ڈوایا، اور مسز بوٹا….لہذا نام فوراً بدل لیجئے۔ اس سے پہلے کہ دلہن سے پوچھا جائے کہ "مسمات گل بدن، ولد تن بدن، تمہیں حق مہر شرعی بتیس روپے کے عوض موجودگی چار گواہان مسمی بھلا مانس ولد بن مانس قبول ہے۔۔۔ !" اور دلہن کی چیخ نکل جائے۔
نام کے حوالے سے مجھے اپنے نام کے بڑے فائدے ہیں، یونیورسٹی میں، میرے داخلہ فارم پر اکثر لڑکیوں والی کھڑکی میں بھی قابلٍ قبول سمجھے جاتے تھے۔ مجھے اب بھی یاد ہے کہ چند سال قبل مجھے روالپنڈی کے ایک شوقین مزاج کا خط موصول ہوا۔ موصوف نے میری کچھ تحریریں پڑھ رکھی تھیں۔ لیکن غالباً میری جنس سے ناواقف تھے۔ لہذا اپنے پہلے خط میں صرف میری اور میری تحریر کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے اور آخر میں سوال پوچھا کہ "کیا ہماری دوستی ہوسکتی ہے۔"
چونکہ ان کے خط میں کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہورہا تھا کہ انہوں نے مجھے صنفٍ نازک سمجھ کر خط لکھا ہے لہذا میں نے بھی سادہ سا جواب تحریر کردیا کہ "کیوں نہیں۔" پھر ان کے خطوط کا تانتا بندھ گیا میری طرف سے جواب میں تاخیر ہوئی تو ایک خط میں لکھا۔۔۔ ۔"تم نخرے بہت کرتی ہو۔" میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میں نے فوراً اس وقت ایک تصویر انہیں ارسال کی جب میں "داڑھی شدہ" ہوتا تھا۔ جواب ارجنٹ میل سے آیا۔ لکھا تھا۔۔۔ "صوفی، تیرا ککھ نہ رہے، میں نے تو ماں کو بھی راضی کرلیا تھا۔"
از : (گل نوخیز اختر)
What your hair type?
Still a better love story than twilight :D
Amaan Ramzan :O
Dola Shah ka Choha :(
آپ نے بھی میری طرح کئی بار شاہ دولہ کے چوہوں کو دیکھا ہو گا کبھی ان سے خوف کھایا ہو گا اور کبھی ان پر ترس بھی کھایا ہوگا، دل میں ان کی بیچارگی کا خیال بھی آیا ہو گا.
کیا آپ نےکبھی یہ سوچا کہ یہ شاہ دولہ کے چوہے کیا ہوتے ہیں کہاں سے آتے ہیں اور ان کا کیا مصرف ہوتا ہے.
شاہ دولہ ایک مزار ہے جو گجرات میں ہے اور ہر سال اس کا عرس بھی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے.. یوں ہوتا ہے کہ جن بچوں کے سر پیدائشی طور پر چھوٹے ہوتے ہیں ان کو اس مزار پر بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کو پالا جاتا ہے اور پھر بڑے ہونے پر بھیک مانگنے کے کام پر لگا دیا جاتا ہے. بعض ماں باپ جن کی اولاد نہیں ہوتی یا ہوتی ہے اور مر جاتی ہے یا کسی اور سبب سے، منت مانگتے ہیں کہ وہ اپنا بچہ شاہ دولہ کے مزار کی نذر کر دیں گے.
ایسے بچے گو پیدائشی طور پر صحت مند ہوتے ہیں مگر ان کے سر پر ایک آہنی خول چڑھا دیا جاتا ہے اور پھر ان کا سر چھوٹا ہی رہ جاتا ہے. اب ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے جو کہ بھیک مانگنا ، کھانا اور پھر بھیک مانگنا ہوتا ہے. ایسے لوگ ذہنی طور پر بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں اور سوچنے سمجھنے کے قابل رہتے ہیں نہ زنگی کی بھاگ دوڑ میں حصّہ لے سکتے ہیں.
ہم پاکستانی بھی جب پاکستان بنا اور ہم پیدا ہوئے تو بہت صحت مند تھے بڑے توانا تھے ایک نظریے کی کوکھ سے جنم لیا تھا اور دنیا لرزہ بر اندام تھی کہ نہ جانے یہ دنیا میں کیا کر گزریں گے. اگر عالم اسلام کے یہ قائد بن گئے تو عالم اسلام کہیں کفر کی طاغوتی قوتوں کو ملیا میٹ ہی نہ کر دے پاش پاش ہی نہ کر دے.
پھر دنیا بھر کے قابل ترین ذہن سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں سے رابطہ کیا جو سیاست میں بھی تھے، بیوروکریسی میں بھی، فوج میں بھی اور صنعت کاروں میں بھی اور پھر انہوں نے پاکستانی قوم کو شاہ دولہ کا چوہا بنانے کا فیصلہ کر لیا.
اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک بڑے ہی آسان اور سیدھے راستے کا انتخاب کیا اور اپنے ایجنٹوں کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی اور صلے میں ان کی اور ان کی نسلوں کے مفادات کے تحفظ کا ذمہ اٹھایا.
فیصلہ یہ کیا گیا کہ اس ملک کے لوگوں کے ذہنوں پر انگلش کا خول چڑھا دیا جائے. یہ تمام عمر اس خول میں ہی قید رہیں، نہ ان کی علم تک رسائی ہو، نہ ان کو تحقیق کا پتا چلے، نہ سائنس کا، نہ ٹیکنالوجی کا اور ہمارے ایجنٹ ان کو بتاتے رہیں کہ انگلش ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے انگلش سے ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے دروازے کھلتے ہیں اور دنیا میں رابطے کی واحد زبان انگلش ہے.
66 سال ہو گئے یہ خول چڑھی ہوئے پاکستانی قوم دولے شاہ کے چوہوں کا روپ دھار چکی ہے، وہ قوم جس نے دنیا کا امام بننا تھا انگریزی کی غلام بن چکی ہے، اس کو بھی روٹی، پیسے اور کرسی کے سوا کچھ نہیں چاہیے، دنیا بھر میں بھکاری اور گداگر کے نام سے پہچانی جاتی ہے، جس کا جی چاہتا ہے جوتے اتروا لیتا ہے، جو چاہے کپڑے اتار لیتا ہے، جس کو جتنی دیر چاہیں کسی بھی جگہ روک کر پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں اور اس عمل کے لئے مقام، وقت اور دورانئے کی کوئی قید نہیں.
ہمیں بھی اب صرف دو وقت کی روٹی چاہیے، چاہے اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے، شاہ دولہ کے چوہوں کو بھی تو یہی چاہیے.
کل صبح جب منہ دھونے کے لئے آئینے کے سامنے کھڑے ہوں تو اپنی شکل کو غور سے دیکھیں اور ہاں سر کے سائز پر ضرور غور کریں
شاہ دولہ ایک مزار ہے جو گجرات میں ہے اور ہر سال اس کا عرس بھی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے.. یوں ہوتا ہے کہ جن بچوں کے سر پیدائشی طور پر چھوٹے ہوتے ہیں ان کو اس مزار پر بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کو پالا جاتا ہے اور پھر بڑے ہونے پر بھیک مانگنے کے کام پر لگا دیا جاتا ہے. بعض ماں باپ جن کی اولاد نہیں ہوتی یا ہوتی ہے اور مر جاتی ہے یا کسی اور سبب سے، منت مانگتے ہیں کہ وہ اپنا بچہ شاہ دولہ کے مزار کی نذر کر دیں گے.
ایسے بچے گو پیدائشی طور پر صحت مند ہوتے ہیں مگر ان کے سر پر ایک آہنی خول چڑھا دیا جاتا ہے اور پھر ان کا سر چھوٹا ہی رہ جاتا ہے. اب ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے جو کہ بھیک مانگنا ، کھانا اور پھر بھیک مانگنا ہوتا ہے. ایسے لوگ ذہنی طور پر بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں اور سوچنے سمجھنے کے قابل رہتے ہیں نہ زنگی کی بھاگ دوڑ میں حصّہ لے سکتے ہیں.
ہم پاکستانی بھی جب پاکستان بنا اور ہم پیدا ہوئے تو بہت صحت مند تھے بڑے توانا تھے ایک نظریے کی کوکھ سے جنم لیا تھا اور دنیا لرزہ بر اندام تھی کہ نہ جانے یہ دنیا میں کیا کر گزریں گے. اگر عالم اسلام کے یہ قائد بن گئے تو عالم اسلام کہیں کفر کی طاغوتی قوتوں کو ملیا میٹ ہی نہ کر دے پاش پاش ہی نہ کر دے.
پھر دنیا بھر کے قابل ترین ذہن سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں سے رابطہ کیا جو سیاست میں بھی تھے، بیوروکریسی میں بھی، فوج میں بھی اور صنعت کاروں میں بھی اور پھر انہوں نے پاکستانی قوم کو شاہ دولہ کا چوہا بنانے کا فیصلہ کر لیا.
اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک بڑے ہی آسان اور سیدھے راستے کا انتخاب کیا اور اپنے ایجنٹوں کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی اور صلے میں ان کی اور ان کی نسلوں کے مفادات کے تحفظ کا ذمہ اٹھایا.
فیصلہ یہ کیا گیا کہ اس ملک کے لوگوں کے ذہنوں پر انگلش کا خول چڑھا دیا جائے. یہ تمام عمر اس خول میں ہی قید رہیں، نہ ان کی علم تک رسائی ہو، نہ ان کو تحقیق کا پتا چلے، نہ سائنس کا، نہ ٹیکنالوجی کا اور ہمارے ایجنٹ ان کو بتاتے رہیں کہ انگلش ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے انگلش سے ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے دروازے کھلتے ہیں اور دنیا میں رابطے کی واحد زبان انگلش ہے.
66 سال ہو گئے یہ خول چڑھی ہوئے پاکستانی قوم دولے شاہ کے چوہوں کا روپ دھار چکی ہے، وہ قوم جس نے دنیا کا امام بننا تھا انگریزی کی غلام بن چکی ہے، اس کو بھی روٹی، پیسے اور کرسی کے سوا کچھ نہیں چاہیے، دنیا بھر میں بھکاری اور گداگر کے نام سے پہچانی جاتی ہے، جس کا جی چاہتا ہے جوتے اتروا لیتا ہے، جو چاہے کپڑے اتار لیتا ہے، جس کو جتنی دیر چاہیں کسی بھی جگہ روک کر پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں اور اس عمل کے لئے مقام، وقت اور دورانئے کی کوئی قید نہیں.
ہمیں بھی اب صرف دو وقت کی روٹی چاہیے، چاہے اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے، شاہ دولہ کے چوہوں کو بھی تو یہی چاہیے.
کل صبح جب منہ دھونے کے لئے آئینے کے سامنے کھڑے ہوں تو اپنی شکل کو غور سے دیکھیں اور ہاں سر کے سائز پر ضرور غور کریں
Teeth Cleaning Challenge :D
Female of Fashion :)
Tharki Peer Sahab :@
Rajnikant the Superstar
A Dreamy Future ♥
جوزف : ہیلو مارک ۔ کل تم آفس نہیں آئے تھے ؟ خیریت؟
مارک: ہاں یار۔ میں پاکستانی ایمبیسی گیا تھا۔ ویزہ لینے۔
جوزف : اچھا واقعی ؟ پھر کیا ہوا ؟ میں نے سنا ہے آجکل انہوں نے بہت سختیاں کردی ہیں ۔ مارک : ہاں ۔ لیکن میں نے پھر بھی کسی نہ کسی طرح لے ہی لیا۔
جوزف: بہت اچھے یار۔ مبارک ہو۔ یہ بتاؤ کہ ویزہ پراسیس میں کتنا وقت لگا ؟
مارک : بس کچھ مت پوچھو یار۔ تقریباً مہینہ بھر لگ گیا۔ پہلی بار جب میں پاکستان ایمبیسی گیا تھا تو صبح 4:30 پر وہاں پہنچا۔ پھر بھی مجھ سےپہلے 10 لوگ کھڑے تھے۔ لمبی قطار۔ اور ہاں مجھ سے کچھ آگے بل گیٹ بھی اپنا پاسپورٹ اور بنک سٹیٹمنٹ ہاتھ میں لیا لائن میں کھڑا تھا۔
جوزف : اچھا۔ بل گیٹ کو ویزہ مل گیا ۔
مارک : نہیں۔ انہوںنے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ بل گیٹ پاکستان جانے کے بعد وہاں سلپ ہوجائے گا اور امریکہ واپس نہیں آئے گا۔
جوزف : یار ۔ پاکستانی ایمبیسی کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔ اسلام آباد میں ہماری امریکن ایمبیسی تو پاکستانیوں کو ایک گھنٹے میں ویزہ دے دیتی ہے۔ پھر یہ کیوںایسا کرتے ہیں ؟
مارک : ارے یار ۔ تمھیں تو پتہ ہے پاکستان اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے۔ اسکا ویزہ لینا گویا مریخ کا ویزہ لینے کے برابر ہے۔ اور پھر قصور ہمارا امریکیوں کا بھی ہے۔ ہم بھی وہاں وزٹ ویزہ پر جاکر واپس نہیں آتے نا۔
جوزف : اچھا یہ بتاؤ ۔ تمھیں ویزہ کیسے مل گیا ؟
مارک : میں نے وہاں کی مشہور فرم “پھالیہ شوگر ملز لمٹیڈ“ سے بزنس وزٹ کا انویٹیشن منگوایا تھا۔ بس اسی بنیاد پر کام بن گیا۔
جوزف : ایک بار پھر مبارک ہو۔ یہ بتاؤ کب جا رہے ہو پاکستان ؟
مارک : جیسے ہی ٹکٹ ملا۔ دراصل میں نے دنیا کی مشہور ترین اور اعلی کلاس کی ائیر لائن میں ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ میرا بچپن سے خواب تھا کہ کسی دن پاکستان انٹرنیشنل ایر لائنز PIA میں سفر کر سکوں۔ اگر ٹکٹ مل گیا تو میرا دیرینہ خواب پورا ہوجائے گا۔
جوزف : پاکستان میں کتنا عرصہ رکو گے ؟
مارک : کتنا عرصہ ؟ کیا مطلب ؟ مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو پاکستان چھوڑ کر واپس امریکہ آنے کی سوچوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے انٹرنیٹ پر چیٹ کے ذریعے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے مضافات میں ایک صحت افزا مقام “کامونکی“ کی ایک لڑکی سیٹ کر لی ہے۔ میں اس سے شادی کرکے گرین پاسپورٹ اپلائی کردوں گا اور وہیں سیٹ ہوجاؤں گا۔
جوزف : یار تم بہت خوش قسمت ہو۔ لیکن تمھارے ماں باپ کا کیا ہوگا۔
مارک : پاکستانی گرین پاسپورٹ مل جانے کے بعد میں ماما-پاپا کو بھی وہیں بلا لوں گا۔
جوزف : کس شہر میں رہنا پسند کرو گے ؟
مارک : کامونکی والی لڑکی نے مجھے کہا ہے کہ پنجاب سٹیٹ صحت و صفائی کے اعلی معیار کی وجہ سے ویسے تو دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن ہم کراچی سیٹل ہوںگے۔ وہاں آپرچیونٹیز بہت ہیں۔ پتہ ہے نا ؟ کراچی اس وقت دنیا میں ٹریڈ اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اول نمبر کا شہر ہے۔ اور وہاں کا 660 منزلہ حبیب بنک پلازہ دیکھنا بھی میری زندگی کی بہت بڑی خواہش ہے۔ سنا ہے اسکی اوپرکی 200 منزلیں بادلوںمیں ڈھکی رہتی ہیں۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤو واٹ آ ڈریم یار۔
جوزف : اچھا یہ بتاؤ اپنے ساتھ کتنے ڈالرز لے کر جاؤ گے ؟
مارک : ڈالرز ؟ وہاں کون پوچھتا ہے۔ تمھیں پتہ ہے ایک پاک-روپے کے مقابلے میں آجکل 210 ڈالرز بنتے ہیں۔ یعنی میری اگر وہاں 10 ہزار پاکستانی بھی تنخواہ نکل آئی تو امریکہ میں چند مہینوں میں لاکھوں پتی بن جاؤں گا۔
جوزف : میں نے سنا ہے پاکستان کا لائف سٹینڈرڈ بہت اعلی ہے۔
مارک : ہاں۔ ایسے ہی ہے۔ وہاں پر BMW لکژری کار 25 ہزار پاک روپے میں ، جبکہ مرسٹڈیز 32 ہزار میں مل جاتی ہے۔ لیکن مین تو سوزوکی یا چنگچی لوں گا۔ خالصتاً پاکستانی میڈ آٹوز ہیں۔ کچھ مہنگی ہیں لیکن بہت اعلی کلاس کی ہیں۔
البتہ کراچی میں فلیٹ بہت مہنگے ہیں۔ اور کوئی بھی بلڈنگ 100 فلور سے کم تو ہے ہی نہیں۔ انسان ہر وقت خود کو فضاؤں میں اڑتا محسوس کرتا ہے۔
جوزف : اچھا یہ بتاؤ کہ وہاں کام کیا کرو گے۔
مارک : میں نے معلومات کی ہیں۔ وہاں پر آئی-ٹی میں بہت سکوپ ہے۔ لیکن تم تو جانتے ہو وہ ہمارے ملک کے تعلیمی معیار کو اپنے برابر نہیں سمجھتے اس لیے مجھے شروع میں وہاں کسی کسان کے “ گدھے“ وغیرہ نہلانے پڑیں گے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کسی مشہور پارک کے دروازے پر “جوتے پالش “ کا کھوکھا ہی کھول لوں۔ کچھ نہ ہوا تو ٹیکسی کا لائسنس کرلوں گا۔ امریکہ سے تو پھر بھی کئی گنا بہتر کما لوں گا۔ اورہاں اگر میں وہاں کا گرین پاسپورٹ ہولڈر ہوگیا تو پھر ساری زندگی حکومت مجھے بےروزگاری الاؤنس اور میڈیکل سہولیات فری فراہم کرے گی۔ اور گرین پاسپورٹ کی بنا پر مجھے دنیا کے 80 فیصد ممالک میں بغیر ویزے کے وزٹ کرنے کی سہولت مل جائے گی۔
جوزف : بہت خوب ۔ یہ بتاؤ ۔ تمھیں انکی زبان کیسے آئے گی ؟
مارک : اوہ بھائی ۔ میں پچھلے 10 سال سے اردو لینگوئج سیکھ رہا ہوں۔ کالج میں آپشنل سبجیکٹ بھی اردو ہی لیا تھا۔ اور ہاں میں نے TOUFL بھی A گریڈ میں پاس کیا ہے۔
جوزف : یہ TOUFL کیا ہے ؟
مارک : Test Of Urdu as a Foreign Language
جوزف : تم بہت خوش قسمت ہو یار۔ کاش میں تمھاری جگہ ہوتا۔
سنا ہے وہاں پر ٹرین سسٹم بہت اچھا ہے۔
مارک : ہاں ۔ کراچی سے لاہور اور وہاں سے پشاور اور کوئٹہ کے لیے دنیا کی تیز ترین اور آرام دہ ترین ٹرین “تیز گام“ چلتی ہے۔ اس میں سفر کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ اور لاہور میں ہی دنیا کا مشہور فلم سٹوڈیو لالی وڈ بھی ہے۔ جہاں پر میں دنیا کے عظیم اداکاروں سلطان راہی ، شفقت چیمہ اور ریما کے مجسمے دیکھوں گا۔ سنا ہے آجکل انکے بچے بھی فلم انڈسٹری میں ہیں۔
اور راولپنڈی میں دنیا کی سب سے بڑی اور گہری جھیل “راول ڈیم“ بھی ہے۔ اس میں بوٹنگ کرنا بھی مجھے ہمیشہ سے ہی خواب لگتا ہے۔ لیکن اب یہ خواب بھی حقیقت بن جائے گا۔
جوزف : سنا ہے ہمارا صدر اگلے مہینہ امداد لینے پاکستان بھی جائے گا ؟
مارک : ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ اور قرضے بھی ری-شیڈول کروانے ہیں۔ پچھلے دنوں پاکستان کے محکمہ نسواریات کا منسٹر پختون خان ، وہائٹ ہاؤس آیا تھا تو 10 لاکھ روپے کا ڈونیشن تو صرف یہاں چلنے والے ایک منشیات کے ادارے کو دے گیا تھا۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ منشیات باآسانی مہیا ہوسکیں۔
جوزف : اچھا تمھیں یاد ہے ہمارا پرائمری سکول کا کلاس فیلو “پیٹر“ ۔ وہ بھی تو کہیں پاکستان میں سیٹ ہے۔
مارک : ہاں۔ وہ کوئٹہ کے قریب ایک وادی “ پوستان“ میں سیٹ ہے۔ سنا ہے پوسٹ کے کھیت سے پوست اکٹھی کرنے کا کام ہے اسکا۔ ایک ہی سیزن میں اتنا کما لیتا ہے کہ باقی 6 ماہ بیٹھ کر کھاتا رہتا ہے۔ عیش ہے اسکی تو۔
جوزف : یار میں بھی پاکستانی ویزہ کے لیے اپلائی کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کچھ انسٹرکشن تو دو ؟ مارک : پاکستانی ایمبیسی میں ہمیشہ شلوار قمیض پہن کر جانا۔ وہ لوگ اپنے قومی لباس کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اور کوشش کرنا کہ ویزہ کی درخواست انگریزی کی بجائے اردو میں پُر کرنا۔ اس سے بھی اچھا تاثر ملے گا۔
اور ایمبیسی میں داخل ہوتے ہی “السلام علیکم ۔ جناب کیا حال ہے ؟“ کہنا مت بھولنا۔
اس سے پتہ چلے گا کہ آپ کتنے مہذب ہو۔
جوزف : تھینک یو یار۔
مارک : تھینک یو نہیں شکریہ ۔ اب میں پاکستانی ویزہ ہولڈر ہوں۔ مجھے شکریہ کہنے میں فخر ہے ۔ خدا حافظ ۔

















