Story of a Pious Man


وہ عورت روز اس نوجوان کو دیکھتی لیکن وہ بغیر اس کی طرف دیکھے سر جھکا کر اسکی گلی سے گزر جاتا ، دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا ، لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی اور اب چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اس پر نظرِ التفات
ڈالے ۔ لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتا
اس عورت کو اب ضد سی ہوگئی تھی وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہوسکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے ، اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیار دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ۔ اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے لوگ ترستے ہیں وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو، اسکی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرے
اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہوگئی اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کرسکے اور اسکا غرور توڑ سکے ، آخر کار شیطان نے اسے ایک ایسا طریقہ سجھا دیا جس میں پھنس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا
اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اسکے قریب آئی اور کہنے لگی بیٹا میری مالکن تمہیں بلا رہی ہے ۔ نوجوان نے کہا اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے ، اس عورت نے کہا بیٹا اس نے تم سے کوئی مسلئہ پوچھنا ہے وہ مجبور ہے خود باہر نہیں آسکتی ۔ نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جو عورت اسے بلا رہی ہے اسکا منصوبہ کیا ہے وہ کیا چاہتی ہے وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اسکی مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آگیا اسکے ذہن میں تھا کہ شاید کوئی بوڑھی عورت ہے جو اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے
نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور انتظار کرنے کا کہہ کر چلی گئی ، تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہی عورت داخل ہوئی نوجوان نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لی کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی ،
نوجوان نے پوچھا جی بی بی آپ نے کونسا مسلئہ پوچھنا ہے ۔ عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اس نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ تمہیں حاصل کرلوں
نوجوان یہ بات سن کر کانپ گیا اور کہنے لگا اللہ کی بندی اللہ سے ڈرو کیوں گناہ کی طرف مائل ہو رہی ہو ۔ اس نے عورت کو بہت سمجھایا لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا اس نے کہا کہ یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے یا پھر میں شور مچاؤں گی کہ تم زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری عزت پر حملہ کیا
نوجوان یہ بات سن کر بہت پریشان ہوا ، اسے اپنی عزت کسی بھی طرح محفوظ نظر نہیں آرہی تھی ، اسکی بات مانتا تو گناہ گار ہوتا نہ مانتا تو لوگوں کی نظر میں برا بنتا ۔ وہ علاقہ جہاں لوگ اسکی شرافت کی مثالیں دیا کرتے تھے وہاں پر اس پر اس قسم کا الزام لگ جائے یہ اسے گوارہ نہیں تھا ، وہ عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا
دل ہی دل میں وہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے مدد چاہی تو اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی اس نے عورت سے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہے
عورت نے اسے بیت الخلاء کا بتا دیا اس نوجوان نے اندر جاکر ڈھیر ساری غلاظت اپنے جسم پر مل لی اور باہر آگیا ، عورت اسے دیکھتے ہیں چلا اٹھی یہ تم نے کیا کیا ظالم ۔ مجھ جیسی نفیس طبعیت والی کے سامنے اتنی گندی حالت میں آگئے ، دفع ہو جاؤ ، نکل جاؤ میرے گھر سے ۔
نوجوان فورا" اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا واپس مدرسے چلا گیا
نماز کے بعد جب وہ سبق میں بیٹھا تو تھوڑی دیر بعد استاد نے کہا کہ آج تو بہت پیاری خوشبو آرہی ہے ، کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے
وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے ابھی بدبو گئی نہیں اور استاد جی طنز کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے
تھوڑی دیر بعد استاد جی نے پھر پوچھا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے
لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کرکے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے ۔ اس نوجوان کی باری آئی تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا ، استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اسکے کپڑوں سے آرہی تھی استاد نے کہا کہ تم بتا کیوں نہیں رہے تھے کہ یہ خوشبو تم نے لگائی ہے
نوجوان رو پڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کریں مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بدبو آرہی ہے لیکن میں مجبور تھا اور اس نے سارا واقعہ استاد کو سنایا
استاد نے کہا کہ میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا خدا کی قسم تمہارے کپڑوں سے واقعی ہی ایسی خوشبو آرہی ہے جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی اور یقینا" یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ تم نے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو گندگی لگانا پسند کرلیا لیکن اللہ نے اسی گندگی کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا جو کہ اس دنیا کی نہیں لگتی
کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے ان کپڑوں سے ہمیشہ ہی وہ خوشبو آتی رہی
(نوٹ ، یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عالم دین نے اپنے بیان میں سنایا تھا ، انہوں نے جگہ اور مدرسے کا نام بھی بتایا تھا جو کسی وجہ سے بیان نہیں کیا گیا )

Eid Mubarak to everyone



Woh raha chand... Sab ko advance mein boht boht eid mubarik ho...


Story of Hazrat Umar and his appointed governor


امیر المومینین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حمص کے دورے پر تشریف لے گئے، وہاں کے لوگوں نے گورنر سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایت کا پنڈورا بکس کھول دیا۔ پہلی شکایت یہ کی۔ کہ لوگوں کے معاملات نپٹانے کیلئے دن چڑھے آتے ہیں۔ دوسری شکایت یہ کی۔کہ رات کو یہ کسی کی بات کا جواب ہی نہیں دیتے۔ تیسری شکایت یہ کی۔کہ ہر مہینے میں ایک دن شام تک گھر سے ہی نہیں نکلتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ سے جواب طلبی کی۔آپ نے ارشاد فرمایا۔ کہ امیر المومینین میرا دل تو نہیں چاہتا کہ حقائق سے پردہ اٹھاؤں لیکن اب اس کے بغیر،کوئچارہ کار ہی نہیں۔لہذا پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ میرے پاس،کوئ خادم نہیں میں صبح آٹا خود گوندھتا ہوں پھر تھوڑا انتظار کرتا ہوں تاکہ اس میں خمیر پیدا ہو جائے پھر روٹی پکاتا ہوں۔ناشتہ کرنے کے بعد وضو کر کے لوگوں کے معاملات نپٹانے کے لیے چلا جاتا،ہوں۔اس وجہ سے گھر سے نکلنے میں کچھ تاخیر ہوجاتی ہے۔ساتھیوں نے جو میری دوسری شکایت کی ہے اسکی وجہ یہہے کہ میں نے دن لوگوں کیلئے اور رات اپنے رب کے لیے مخصوص کر رکھی ہے ۔میں رات کو اللہ تعالی کی عبادت،میں مصروف رہتا ہوں۔جہاں تک تیسری شکایت کا تعلق ہے کہ میں مہینہ میں ایک روزدن بھر کے لیے باہر نہیں نکلتا اسکی اصل وجہ یہ ہے کہ میرے پاس پہننے کیلئے کپڑوں کا صرف ایک جوڑا ہے۔جو مہینے میں صرف ایک 
دفعہ دھوتا ہوں۔جب وہ خشک ہو جاتے ہیں تو دن کے پچھلے پہر زیب تن کر کے باہر آ جاتا ہوں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا چہرہ اپنے متعین کردہ گورنر کے جواب سن کر خوشی سے تمتما اٹھا اور،انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو انکے اعتماد پر پورا اترنے کی توفیق عطا کی۔

The leader of Muslims Hazrat Umar bin Khattab (R.A) went to the tour of Hams, people out there opened a Pandora box of complains against the governor Saeed bin Aamir (R.A). 
The first complaint was that he came very late in the day to solve public matters. 
The second complaint was that at night time he didn't answer any query. 
The third complaint was that once a month he didn't come out of his house till evening. 
Hazrat Umar (R.A) inquired about it. So he replied that I do not want to reveal the fact but there is no other option now. 
So response to first objection is that I have no servant so I dough the bread myself and wait till it's fermented and then I cook the bread. After breakfast I perform ablution and go to resolve public matters. That's why there a little delay in leaving the house. 
About the second complaint from my mates, it's reason is that I have specified that days for people and night for my God. I remain busy in pray to Allah. 
And as far as third complaint is concerned that I do not leave the house once in a month, I reason is that, I have only one dress which I wash only once. When that gets dry, then I wear it later in the day and come out of my house. 
Hazrat Umar (R.A) beamed at the answers of his appointed governer. He thanked Allah who strengthened Saeed bin Amir (R.A) to keep his trust. 

Pakistan and Islam




کیا آپ کو معلوم ھے؟؟ 
پوری دنیا میں ایک وقت میں سب سے زیادہ اذان پاکستان میں  جاتی ھے

۔۔۔۔ پوری دنیا میں سب سے زیادہ نمازی پاکستان میں ھیں۔۔۔۔۔

 سب سے زیادہ دین کے علماء پاکستان میں ھیں۔۔۔۔۔ 

ساری امت مسلمہ کے 50 فیصد ذکوٰۃ دینے والے پاکستانی ھیں۔۔۔۔۔ 

یو این کی رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ چیریٹی امریکن کرتے ھیں 

پھر اسکے بعد پاکستان کا نمبر ھے۔۔۔۔ 

ایک وقت میں قرآن کے سب سے زیادہ حفاظ پوری دنیا میں پاکستان  میں ھیں۔۔۔۔۔

 سبحان اللہ 

پوری دنیا میں سب سے زیادہ حجاج پہلے انڈونیشیا ھے تھے اب پاکستان کے ھیں ۔ 

ساری دنیا میں سب سے زیادہ پاکستانی اللہ کے راستے میں نکلتے ھیں ۔ اور سب سے زیادہ جانیں اللہ کے راستےمیں بھی پاکستانی دیتے ھیں۔۔۔۔۔۔۔

 اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ھے یہ ملک ، اور امت مسلمہ کی بقا ھے یہ ملک اللہ نے جس مقصد کے لیئے بنایا ھے اس ملک کو وہ پورا ھو کر رھے گا۔۔۔۔۔ اور جو لوگ اسکی تعمیر و ترقی کے لیئے کام کریں گے اور اس میں اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے کام کریں گے دنیا اور آخرت کی کامیابی انکا مقدر ھو گی۔۔۔۔ آئیے سب مل کر عہد کریں کہ ھم اسلام اور پاکستان کی "مضبوطی اور بقا کے لیئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ 


♥♥ انشاء اللہ ♥♥

Do you know??

In the whole world, Azan is simultaneously recited maximum in Pakistan.

Most of the Praying people (Namazi) of the world are in Pakistan. 

Maximum number of Religious scholars are in Pakistan.

50% of all the Zakat by Muslims is given by Pakistanis.

According to a UNO report, American people are maximum charitable and then come the Pakistanis.

Maximum number of people who know Quran by heart are in Pakistan.

Maximum number of Hajj was done by Indonesians and now this count is Maximum from Pakistan

Maximum Jihadis are from Pakistan. 

This country is one of the mysteries of Allah. This country is one of the reasons of Survivals of Muslim nation. And this country will fulfill her purpose. And people who will work for her prosperity and for Success of Islam in whole world, will be successful in both of the worlds. Let's promise that will not restrain ourselves from any sacrifice for strength of this Country and Islam.

♥♥ In Sha Allah ♥♥

How to Finish your Dastarkhwan


دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت مولانا سید اصغر حسین رحمتہ اللہ علیہ جو ”حضرت میاں صاحب“ کے نام سے مشہور تھے، بڑے عجیب و غریب بزرگ تھے۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں گیا۔ انہوں نے فرمایا: ” کھانے کا وقت ہے، آؤ کھانا کھالو۔“
میں ان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا
جب کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے دسترخوان کو لپیٹنا شروع کیا تاکہ میں جاکر دسترخوان جھاڑوں تو حضرت میاں صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا:
” کیا کر رہے ہو؟“ ۔ میں نے کہا: ”حضرت دسترخوان جھاڑنے جارہا ہوں۔“
حضرت میاں صاحب نے پوچھا: ”دسترخوان جھاڑنا آتا ہے؟ “
میں نے کہا: ”حضرت ! دسترخوان جھاڑنا کون سا فن یا علم ہے جس کے لئے باقاعدہ تعلیم کی ضرورت ہو، باہر جا کر جھاڑ دوں گا۔“
حضرت میاں صاحب نے فرمایا: ”اسی لئے تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہ دسترخوان جھاڑنا آتا ہے یا نہیں؟ معلوم ہوا کہ تمھیں دسترخوان جھاڑنا نہیں آتا!۔“
میں نے کہا: ” پھر آپ سکھا دیں۔ “ فرمایا: ” ہاں! دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے۔“
پھر آپ نے اس دسترخوان کو دوبارہ کھولا، اور اس پر جو بوٹیاں یا بوٹیوں کے ذرات تھے، ان کو ایک طرف کیا، اور ہڈیوں کو جن پر کچھ گوشت وغیرہ لگا ہوا تھا، اُن کو ایک طرف کیا اور روٹی کے جو چھوٹے چھوٹے ذرّات تھے، اُنکو ایک طرف جمع کیا۔ پھر مجھ سے فرمایا:
” دیکھو! یہ چار چیزیں ہیں۔ اور میرے یہاں ان چاروں کی علیحدہ علیحدہ جگہ مقرر ہے۔ یہ جو بوٹیاں ہیں، ان کی فلاں جگہ ہے۔ بلی کو معلوم ہے کھانے کے بعد اس جگہ بوٹیاں رکھی جاتی ہیں، وہ آکر ان کو کھالیتی ہے۔ اور ان ہڈیوں کےلئے فلاں جگہ مقرر ہے۔ محلے کے کتوں کو وہ جگہ معلوم ہے، وہ آکر ان کو کھالیتے ہیں۔ اور جو روٹیوں کے ٹکڑے ہیں، اُن کو میں اس دیوار پر رکھتا ہوں، یہاں پرندے، چیل کوّے آتے ہیں۔ اور وہ اِن کو اٹھا کر کھا لیتے ہیں۔ اور یہ جو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں تو میرے گھر میں چیونٹیوں کا بَل ہے، اِن کو اُس بل میں رکھ دیتا ہوں، وہ چیونٹیاں اس کو کھا لیتی ہیں۔“
پھر فرمایا: ” یہ سب اللہ جل شانہ کا رزق ہے، اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں جانا چاہئے۔“
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے تھے کہ اس دن ہمیں معلوم ہوا کہ دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے اور اُس کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔

سبق: تو دوستو!!! اللہ کی دی ہوئی کوئی بھی نعمت ضائع نہ کرنی چاہیئے۔ اس کو جس ھد تک ہوسکے استعمال میں لانا چاہیئے اور اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے قطعِ نظر اس بات کے کہ آیا اس سے انسان کو فائدہ ہو یا کسی جانور کو۔

Masjid In A Remote Area


This is the zeal of Muslims....

Only few people follow Islam


We all love to watch sports, go for shopping, watching the movie on its release date, we also have a lots and lots of time for our jobs and stuff but when it comes to religion suddenly we are too busy or too tired.

Wisdom of Hazrat Ali (R.A)


ایک مرتبہ دو شخص سفرپرتھے،ایک کےپاس تین روٹیاں تھیں اوردوسرے کےپاس پانچ ،دونوں مل کرکھانے بیٹھے ہی تھے کہ اتنےمیں ایک تیسرا مسافربھی آگیا وہ بھی کھانے میں شریک ہوگیا کھانے سے فراغت ہوئ تو اس نے آٹھ درہم اپنے حصہ کی روٹیوں کی قیمت دے دی اور آگے بڑھ گیا ۔ جس شخص کی پانچ روٹیاں تھیں اس نے سیدھا حساب یہ کیا کہ اپنی پانچ روٹیوں کی قیمت پانچ درہم لی اور دوسرے کو تین روٹیوں کی قیمت تین درہم دینے چاہے ۔مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا اور نصف کا مطالبہ کیا ،یہ معاملہ عدالت مرتضوی میں پیش ہوا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دوسرے کو نصیحت فرمائ کہ تمہارارفیق جو فیصلہ کررہا ہے اسکو قبول کرلو اسمیں تمھارا نفع ہے ،لیکن اس نے کہا حق کے ساتھ جو فیصلہ ہو مجھے منظور ہوگا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا حق تو یہ ہے کہ تم کو صرف ایک درہم اور تمہارے ساتھی کو سات درہم ملنے چاہئیں ،اس عجیب فیصلے سے وہ متحیر ہوگیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم تین آدمی تھے ،تمھاری تین روٹیاں تھیں اور تمہارے رفیق کی پانچ ،تم دونوں نے برابر کھائیں اور ایک تیسرے کو بھی برابر کاحصہ دیا ،تمہاری تین روٹیوں کے حصے تین جگہ کئےجائیں تو 9 ٹکڑے ہوتے ہیں ۔
تم اپنے نو ٹکڑوں کو اور اس کے 15ٹکڑوں کو جمع کرو تو24 ٹکڑے ہوتے ہیں تینوں میں سے ہر ایک نے برابر ٹکڑے کھاے توفی کس 8 ٹکڑے ہوتے ہیں ۔
تم نے 9 میں سے آٹھ خود کھاے اورایک تیسرےمسافر کو دیا اور تمھارے رفیق نے اپنے 15 ٹکڑوں میں سے 8 خود کھاے اور 7 تیسرے کو دئیے ۔
اس لئیے 8 درہم میں سے ایک کے تم اور 7 کا تمہارارفیق مستحق ہے یہ تفصیل سننے کے بعد اس جھگڑنے والے شخص نے آپ کے فیصلے کو قبول کرلیا
(تاریخ الخلفاء ص 380 )

Silent message for all Muslims girls and women...


Signs of God to be felt be heart not by eyes


Save the electricity or your prayers are unacceptable ...


Story of a Jew and Hypocrite


ایک یہودی اور ایک منافق کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور تصفیہ کے لئے یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث بنانے کی تجویز رکھی ، منافق یہودکے اس سردار کعب بن اشرف کو ثالث بنانے پر مصر تھا ، کافی حیل وحجت کے بعد دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث بنانا مان لیا ۔چنانچہ وہ دونوں اپنا قضیہ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ اس کا حق پر ہونا ثابت تھا لیکن منافق نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور کہنے لگا کہ اب ہم عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو ثالث بنائیں گے ، وہ جو فیصلہ دیں گئے ہم دونوں کے لئے واجب التسلیم ہوگا ۔ یہودی نے معاملہ کو نمٹانے کی خاطرمنافق کی یہ بات بھی مان لی اور اس ساتھ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کے پا س گیا ۔ یہودی نے حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ بتایا کہ ہم دونوں پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث مان کر ان کے پاس گئے تھے اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا تھا مگر یہ شخص (منافق ) محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور اب مجھے آپ کے پاس لے کر آیا ہے ۔ حضرت عمر نے منافق سے پوچھا : اس (یہودی ) نے جو بیان کیا ہے وہ صحیح ہے ؟منافق نے تصدیق کی کہ ہاں اس کا بیان بالکل درست ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا : تم دونوں یہیں ٹھہرو ،جب تک میں نہ آؤں واپس نہ جانا ۔ یہ کہہ کر گھر میں گئے اور تلوار لے کر باہر نکلے اور پھر اس تلوار سے منافق کی گردن اڑا دی اور کہا جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول علیہ السلام کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے اس کے حق میں میرا فیصلہ یہی ہوتا ہے ،
اس منافق کے وارث حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ کے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شایدوہ اس معاملہ میں باہم صلح کرادیں یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوبما انزل الیک وماانزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت ۔
" کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی وہ اپنے مقدمے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں (حالانکہ ان کو یہ حکم ہواہے کہ اس کا کفر کریں ) ۔"
ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا لقب:::فاروق::: فرمایا۔

No fights bro :p


Hazrat Khalid bin Waleed


حضرت خالد بن ولیدرضی الله عنہ قریش کے ایک معزز افراد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے آپ کو ’سیف اللہ‘یعنی'’اللہ کی تلوار‘' کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ جب آنحضور نے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیا

تو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر 17 برس تھی۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضور صلى الله عليہ وسلم کے دشمن تھے۔ بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ نے تلوار کے سائے میں پرورش پائی۔ اس لے وہ بہت پھرتیلے اورنڈر تھے۔ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔ ایک دفعہ بچپن میں حضرت عمر رضي الله عنہ کو پچھاڑ کر ان کی پنڈلی کی ہڈی توڑ دی تھی۔ خالد بن ولید رضي الله عنہ کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کےلئے تین ہزار صحابہ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔

اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد رضي الله عنه نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔

نبی پاک صلى الله عليہ وسلم کی وفات کے بعد صدیق اکبررضي الله عنہ کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ معرکہ یمامہ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسلیمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوج کو شکست دی۔ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ جب بستر علالت پر تھے تو آپ نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔

میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“

اس پر لوگوں نے ان کو یہ کہا کہ رسول اللہ نے آپ کو ”سیف اللہ“ یعنی ”اللہ کی تلوار“ کا خطاب عطا فرمایا ہے۔ آپ اگر کسی کافر کے ہاتھ سے مارے جاتے تو اس کا مطلب تھا کہ ایک دشمن خدا نے اللہ کی تلوار کو توڑ ڈالا.... جو ناممکن تھا۔

یہ سن کر آپ کو کچھ اطمینان نصیب ہوا۔

آپ نے جنگ احد سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک جتنی جنگیں لڑیں ان کی تعداد 41 ہے اور ان جنگوں میں آپ نے ایک جنگ بھی نہیں ہاری''۔

This Is Not Islam...


This Is Not Islam, May be Qaadiyani Khalk we..

Grapes and Wine

انگور اور شراب:
------------------
فرانس میں کمشنر (موریس سارای) تعینات تھا۔ کمشنر نےایک ضیافت میں دمشق کے معززین، شیوخ اور علماء کو مدعو کیا ہوا تھا۔ اس ضیافت میں ایک سفید دستار باندھے دودھ کی طرح سفید ڈاڑھی والے بزرگ بھی آئے ہوئے تھے۔

اتفاق سے اُن کی نشست کمشنر کے بالکل سامنے تھی۔ کمشنر نے دیکھا کہ یہ بزرگ کھانے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے جب کہ چھری کانٹے اُس کی میز پر موجود ہیں۔ ایسا منظر دیکھ کر کمشنر صاحب کا کراہت اور غُصے سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ نظر انداز کرنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا۔ 

اپنے ترجمان کو بُلا کر کہا کہ اِس شیخ صاحب سے پوچھے کہ آخر وہ ہماری طرح کیوں نہیں کھاتا؟ شیخ صاحب نے ترجمان کو دیکھا اور نہایت ہی سنجیدگی سے جواب دیا؛ تو تمہارا خیال ہے کہ میں اپنی ناک سے کھا رہا ہوں؟ کمشنر صاحب نے کہا، نہیں ایسی بات نہیں، ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم چھری اور کانٹے کے ساتھ کیوں نہیں کھاتے؟

شیخ صاحب نے جواب دیا؛ مُجھے اپنے ہاتھوں کی صفائی اور پاکیزگی پر پورا یقین اور بھروسہ ہے، کیا تمہیں بھی اپنے چھری اور کانٹوں پر کی صفائی اور پاکیزگی پر اتنا ہی بھروسہ ہے؟ شیخ صاحب کے جواب سے کمشنر جل بھن کر رہ گیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ اس اہانت کا بدلہ تو ضرور لے گا۔ کمشنر کی میز پر اُس کے دائیں طرف اُس کی بیوی اور بائیں طرف اُس کی بیٹی بھی ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔

کمشنر عربوں کی ثقافت، روایات اور دین داری سے واقف تھا، مزید براں اُس نے اس ضیافت میں شہر کے معززین اور علماء کو مدعو کر رکھا تھا۔ مگر ان سب روایتوں کو توڑتے ہوئے اُس نے اپنے لیے شراب منگوائی اور شیخ صاحب کو جلانے کی خاطر نہایت ہی طم طراق سے اپنے لیے، اپنی بیوی اور بیٹی کے لیے گلاسوں میں اُنڈیلی۔

اپنے گلاس سے چُسکیاں لیتے ہوئے شیخ صاحب سے مخاطب ہو کر کہا؛ سنو شیخ صاحب، تمہیں انگور اچھے لگتے ہیں اور تم کھاتے بھی ہو، کیا ایسا ہے ناں؟ شیخ صاحب نے مختصراً کہا، ہاں۔ کمشنر نے میز پر رکھے ہوئے انگوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛ یہ شراب ان انگوروں سے نکالی ہوئی ہے۔ تم انگور تو کھاتے ہو مگر شراب کے نزدیک بھی نہیں لگنا چاہتے! ضیافت میں موجود ہر شخص کمشنر اور شیخ صاحب کے درمیان پیش آنے والی اس ساری صورت حال سے آگاہ ہو چکا تھا۔ سب کے چہروں سے نادیدہ خوف کے سائے نظر آ رہے تھے اور ہر طرف خاموشی تھی۔

مگر اس شیخ صاحب کے نہ تو کھانے سے ہاتھ رُکے اور نہ ہی چہرے پر آئی مسکراہٹ میں کوئی فرق آیا تھا۔ کمشنر کو مخاطب کرتے ہو ئے

شیخ صاحب نے کہا؛ یہ تیری بیوی ہے اور یہ تیری بیٹی ہے۔ یہ والی اُس سے آئی ہوئی ہے۔ تو پھر کیوں ایک تو تیرے اوپر حلال ہے اور دوسری حرام ہے؟ مصنف لکھتا ہے کہ اس کے بعد کمشنر نے فوراً ہی اپنی میز سے شراب اُٹھانے کا حُکم دیدیا تھا۔

(کتاب شوام ظرفاء)

Complete the 99% first


Trigonometric rules


Truth about Ramadan programs by Hassan Nisar