Bribed by an Old Lady


میں نے دفتر کے باہر بورڈ آویزاں کر رکھا تھا جس پر تحریر تھا ’’ملاقاتی ہر سوموار اور جمعرات کو صبح 9بجے سے 12تک بلا روک ٹوک تشریف لاسکتے ہیں‘‘۔

ایک روز ایک مفلوک الحال بڑھیا آئی ، رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے۔ جسے پٹواری کو اس کے نام منتقل کرنا ہے لیکن وہ رشوت لیے بغیر کام کرنے سے انکاری ہے۔ رشوت دینے کی توفیق نہیں۔ تین چار برسوں سے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہوں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔اس کی دردناک بپتا سن کر میں نے اُسے گاڑی میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے 60-70 میل دور اس گائوں کے پٹواری کو جا پکڑا۔

ڈپٹی کمشنر کو اپنے گائوں میں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی، یہ بڑھیا بڑی شرانگیز ہے اور جھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے۔ اپنی قسم کی تصدیق کے لیے پٹواری اندر سے ایک جزدان اُٹھا لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا

’’حضور اس مقدس کتاب کی قسم کھاتا ہوں‘‘،

گائوں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا جناب ذرا یہ بستہ کھول کر بھی دیکھ لیں۔ ہم نے بستہ کھولا تو اس میں پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔ میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر اُٹھا لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی اراضی کا انتقال کردیا۔

میں نے بڑھیا سے کہا ’’لو بی بی تمہارا کام ہوگیا، اب خوش رہو، بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ آیا اور پاس کھڑے نمبر دار سے کہا سچ مچ میرا کام ہوگیا ہے۔ نمبر دار نے تصدیق کی تو بڑھیا کے آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے۔ اس کے دوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی، اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لیے اور اپنی دانست میں سب کی نظریں بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیے۔

اس ادائے معصومانہ اور محبوبانہ پر مجھے بے اختیار رونا آگیا، کئی دوسرے لوگ بھی آب دیدہ ہوگئے۔یہ سولہ آنے واحد ’’رشوت‘‘ ہے جو میں نے اپنی ساری ملازمت کے دوران قبول کی۔ اگر مجھے سونے کا پہاڑ بھی مل جاتا تو میری نظری میں ان سولہ آنوں کے سامنے اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی۔ میں ان آنوں کو آج تک خرچ نہیں کیا کیوں کہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لیے مالا مال کردیا۔

(’’شہاب نامہ‘‘ سے اقتباس)

Story of a Pious Man


وہ عورت روز اس نوجوان کو دیکھتی لیکن وہ بغیر اس کی طرف دیکھے سر جھکا کر اسکی گلی سے گزر جاتا ، دیکھنے میں وہ کسی مدرسے کا طالب علم لگتا تھا ، لیکن اتنا خوبصورت تھا کہ وہ دیکھتے ہی اسے اپنا دل دے بیٹھی اور اب چاہتی تھی کہ وہ کسی طرح اس پر نظرِ التفات
ڈالے ۔ لیکن وہ اپنی مستی میں مگن سر جھکائے زیر لب کچھ پڑھتا ہوا روزانہ ایک مخصوص وقت پر وہاں سے گزرتا اور کبھی آنکھ آٹھا کر بھی نہ دیکھتا
اس عورت کو اب ضد سی ہوگئی تھی وہ حیران تھی کہ کوئی ایسا نوجوان بھی ہوسکتا ہے جو اس کی طرف نہ دیکھے ، اور اسے ایسا سوچنے کا حق بھی تھا وہ اپنے علاقے کی سب سے امیر اور خوبصورت عورت تھی خوبصورت اتنی کہ جب وہ باہر نکلتی تو لوگ اسے بے اختیار دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ۔ اسے حیرت تھی کہ جس کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے لوگ ترستے ہیں وہ خود کسی کو پسند کرے اور وہ مائل نہ ہو، اسکی طرف دیکھنا گوارہ نہ کرے
اپنی انا کی شکست اور خوبصورتی کی توہین پر وہ پاگل ہوگئی اور کوئی ایسا منصوبہ سوچنے لگی جس سے وہ اس نوجوان کو حاصل کرسکے اور اسکا غرور توڑ سکے ، آخر کار شیطان نے اسے ایک ایسا طریقہ سجھا دیا جس میں پھنس کر وہ نوجوان اس کی بات مانے بنا رہ ہی نہیں سکتا تھا
اگلے دن جب وہ نوجوان اس گلی سے گزر رہا تھا تو ایک عورت اسکے قریب آئی اور کہنے لگی بیٹا میری مالکن تمہیں بلا رہی ہے ۔ نوجوان نے کہا اماں جی آپ کی مالکن کو مجھ سے کیا کام ہے ، اس عورت نے کہا بیٹا اس نے تم سے کوئی مسلئہ پوچھنا ہے وہ مجبور ہے خود باہر نہیں آسکتی ۔ نوجوان اس عورت کے ساتھ چلا گیا اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جو عورت اسے بلا رہی ہے اسکا منصوبہ کیا ہے وہ کیا چاہتی ہے وہ تو اپنی فطرتی سادہ دلی کی وجہ سے اسکی مدد کرنے کے لیے اس کے گھر آگیا اسکے ذہن میں تھا کہ شاید کوئی بوڑھی عورت ہے جو اپنی کسی معذوری کی وجہ سے باہر آنے سے قاصر ہے
نوکرانی نے اسے ایک کمرے میں بٹھایا اور انتظار کرنے کا کہہ کر چلی گئی ، تھوڑی دیر بعد کمرے میں وہی عورت داخل ہوئی نوجوان نے بے اختیار اپنی نظریں جھکا لی کیونکہ اندر آنے والی عورت بہت خوبصورت تھی ،
نوجوان نے پوچھا جی بی بی آپ نے کونسا مسلئہ پوچھنا ہے ۔ عورت کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ آگئی اس نے اپنے دل کا حال کھول کر رکھ دیا اور کہا کہ میری سب سے بڑی خواہش ہے کہ میں ایک دفعہ تمہیں حاصل کرلوں
نوجوان یہ بات سن کر کانپ گیا اور کہنے لگا اللہ کی بندی اللہ سے ڈرو کیوں گناہ کی طرف مائل ہو رہی ہو ۔ اس نے عورت کو بہت سمجھایا لیکن عورت پر تو شیطان سوار تھا اس نے کہا کہ یا تو تم میری خواہش پوری کرو گے یا پھر میں شور مچاؤں گی کہ تم زبردستی میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری عزت پر حملہ کیا
نوجوان یہ بات سن کر بہت پریشان ہوا ، اسے اپنی عزت کسی بھی طرح محفوظ نظر نہیں آرہی تھی ، اسکی بات مانتا تو گناہ گار ہوتا نہ مانتا تو لوگوں کی نظر میں برا بنتا ۔ وہ علاقہ جہاں لوگ اسکی شرافت کی مثالیں دیا کرتے تھے وہاں پر اس پر اس قسم کا الزام لگ جائے یہ اسے گوارہ نہیں تھا ، وہ عجیب مصیبت میں پھنس گیا تھا
دل ہی دل میں وہ اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوا اور اللہ سے مدد چاہی تو اس کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی اس نے عورت سے کہا کہ ٹھیک ہے میں تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن پہلے مجھے بیت الخلاء جانے کی حاجت ہے
عورت نے اسے بیت الخلاء کا بتا دیا اس نوجوان نے اندر جاکر ڈھیر ساری غلاظت اپنے جسم پر مل لی اور باہر آگیا ، عورت اسے دیکھتے ہیں چلا اٹھی یہ تم نے کیا کیا ظالم ۔ مجھ جیسی نفیس طبعیت والی کے سامنے اتنی گندی حالت میں آگئے ، دفع ہو جاؤ ، نکل جاؤ میرے گھر سے ۔
نوجوان فورا" اس کے گھر سے نکل گیا اور قریب ہی ایک نہر پر اپنے آپ کو اور اپنے کپڑوں کو اچھی طرح پاک کیا اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہوا واپس مدرسے چلا گیا
نماز کے بعد جب وہ سبق میں بیٹھا تو تھوڑی دیر بعد استاد نے کہا کہ آج تو بہت پیاری خوشبو آرہی ہے ، کس طالب علم نے خوشبو لگائی ہے
وہ نوجوان سمجھ گیا کہ اس کے جسم سے ابھی بدبو گئی نہیں اور استاد جی طنز کر رہے ہیں وہ اپنے آپ میں سمٹ گیا اور اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے
تھوڑی دیر بعد استاد جی نے پھر پوچھا کہ یہ خوشبو کس نے لگائی ہے
لیکن وہ خاموش رہا آخر کار استاد نے سب کو ایک ایک کرکے بلایا اور خوشبو سونگھنے لگے ۔ اس نوجوان کی باری آئی تو وہ بھی سر جھکا کر استاد کے سامنے کھڑا ہوگیا ، استاد نے اس کے کپڑوں کو سونگھا تو وہ خوشبو اسکے کپڑوں سے آرہی تھی استاد نے کہا کہ تم بتا کیوں نہیں رہے تھے کہ یہ خوشبو تم نے لگائی ہے
نوجوان رو پڑا اور کہنے لگا استاد جی اب اور شرمندہ نہ کریں مجھے پتا ہے کہ میرے کپڑوں سے بدبو آرہی ہے لیکن میں مجبور تھا اور اس نے سارا واقعہ استاد کو سنایا
استاد نے کہا کہ میں تمہارا مذاق نہیں اڑا رہا خدا کی قسم تمہارے کپڑوں سے واقعی ہی ایسی خوشبو آرہی ہے جو میں نے آج سے پہلے کبھی نہیں سونگھی اور یقینا" یہ اللہ کی طرف سے ہے کہ تم نے اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو گندگی لگانا پسند کرلیا لیکن اللہ نے اسی گندگی کو ایک ایسی خوشبو میں بدل دیا جو کہ اس دنیا کی نہیں لگتی
کہتے ہیں کہ اس نوجوان کے ان کپڑوں سے ہمیشہ ہی وہ خوشبو آتی رہی
(نوٹ ، یہ واقعہ بالکل سچا ہے اور ایک عالم دین نے اپنے بیان میں سنایا تھا ، انہوں نے جگہ اور مدرسے کا نام بھی بتایا تھا جو کسی وجہ سے بیان نہیں کیا گیا )

How to Finish your Dastarkhwan


دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت مولانا سید اصغر حسین رحمتہ اللہ علیہ جو ”حضرت میاں صاحب“ کے نام سے مشہور تھے، بڑے عجیب و غریب بزرگ تھے۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں گیا۔ انہوں نے فرمایا: ” کھانے کا وقت ہے، آؤ کھانا کھالو۔“
میں ان کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا
جب کھانے سے فارغ ہوئے تو میں نے دسترخوان کو لپیٹنا شروع کیا تاکہ میں جاکر دسترخوان جھاڑوں تو حضرت میاں صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا:
” کیا کر رہے ہو؟“ ۔ میں نے کہا: ”حضرت دسترخوان جھاڑنے جارہا ہوں۔“
حضرت میاں صاحب نے پوچھا: ”دسترخوان جھاڑنا آتا ہے؟ “
میں نے کہا: ”حضرت ! دسترخوان جھاڑنا کون سا فن یا علم ہے جس کے لئے باقاعدہ تعلیم کی ضرورت ہو، باہر جا کر جھاڑ دوں گا۔“
حضرت میاں صاحب نے فرمایا: ”اسی لئے تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہ دسترخوان جھاڑنا آتا ہے یا نہیں؟ معلوم ہوا کہ تمھیں دسترخوان جھاڑنا نہیں آتا!۔“
میں نے کہا: ” پھر آپ سکھا دیں۔ “ فرمایا: ” ہاں! دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے۔“
پھر آپ نے اس دسترخوان کو دوبارہ کھولا، اور اس پر جو بوٹیاں یا بوٹیوں کے ذرات تھے، ان کو ایک طرف کیا، اور ہڈیوں کو جن پر کچھ گوشت وغیرہ لگا ہوا تھا، اُن کو ایک طرف کیا اور روٹی کے جو چھوٹے چھوٹے ذرّات تھے، اُنکو ایک طرف جمع کیا۔ پھر مجھ سے فرمایا:
” دیکھو! یہ چار چیزیں ہیں۔ اور میرے یہاں ان چاروں کی علیحدہ علیحدہ جگہ مقرر ہے۔ یہ جو بوٹیاں ہیں، ان کی فلاں جگہ ہے۔ بلی کو معلوم ہے کھانے کے بعد اس جگہ بوٹیاں رکھی جاتی ہیں، وہ آکر ان کو کھالیتی ہے۔ اور ان ہڈیوں کےلئے فلاں جگہ مقرر ہے۔ محلے کے کتوں کو وہ جگہ معلوم ہے، وہ آکر ان کو کھالیتے ہیں۔ اور جو روٹیوں کے ٹکڑے ہیں، اُن کو میں اس دیوار پر رکھتا ہوں، یہاں پرندے، چیل کوّے آتے ہیں۔ اور وہ اِن کو اٹھا کر کھا لیتے ہیں۔ اور یہ جو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں تو میرے گھر میں چیونٹیوں کا بَل ہے، اِن کو اُس بل میں رکھ دیتا ہوں، وہ چیونٹیاں اس کو کھا لیتی ہیں۔“
پھر فرمایا: ” یہ سب اللہ جل شانہ کا رزق ہے، اس کا کوئی حصہ ضائع نہیں جانا چاہئے۔“
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب فرماتے تھے کہ اس دن ہمیں معلوم ہوا کہ دسترخوان جھاڑنا بھی ایک فن ہے اور اُس کو بھی سیکھنے کی ضرورت ہے۔

سبق: تو دوستو!!! اللہ کی دی ہوئی کوئی بھی نعمت ضائع نہ کرنی چاہیئے۔ اس کو جس ھد تک ہوسکے استعمال میں لانا چاہیئے اور اُس سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے قطعِ نظر اس بات کے کہ آیا اس سے انسان کو فائدہ ہو یا کسی جانور کو۔

A narcissist King


پرانے زمانے میں بھی بادشاہوں کو یہ خوش فہمی ہوتی تھی کہ وہ عقل کل ہیں- ایسے ہی ایک بادشاہ محض اس وجہ سے کامیابی سے حکومت کر رہا تھا کہ اسےایک وزیر با تدبیر میسر تھا- جو اپنی معاملہ فہمی اور دوراندیشی سے بادشاہ کی حماقتوں کو چھپا لیتا تھا، مگر کب تک؟؟… ایک دن خود وزیر با تدبیر بھی بادشاہ سلامت کے نرغے میں آ ہی گیا- بادشاہ کے دماغ میں نہ جانے کیا بات آئی کہ انہوں نے وزیر باتدبیر کو بلا کر اس کے سامنے یہ تین سوال رکھے:
١- زمین کے وسطی مقام کی نشاندھی کی جائے-
٢- ہمیں بتایا جائے کہ ہم زمین کا چکر کتنی دیر میں لگا سکتے ہیں؟
٣- ایک عظیم قومی سرمایہ ہونے کے ناطے ہماری قیمت کا تخمینہ لگایا جائے-
یہ کہ کر جلاد کو بلا کر حکم دیا کہ اگرچوبیس گھنٹوں میں وزیر با تدبیر ان سوالوں کے تسلی بخش جواب نہ دے سکے توان کا سر قلم کر دیا جائے- وزیر نے بہتسر کھپایا مگر اسے کچھ سمجھ نہ آیا- بالآخر اس نے ہمت ہار لی اور سوچ لیا کہ اس کے دن گنے جا چکے ہیں- وزیر کے نوکر نے اپنے آقا کو پریشان دیکھ کر وجہپوچھی تو وزیر نے سارا ماجرا سنا ڈالا- خلاف توقع نوکر کہنے لگا:
“یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، آپ بے فکر ہو کر کل دربار جائیں اور بادشاہ سلامت سے کہیں کہ ان سوالوں کا جواب تو میرا نوکر بھی دے سکتا ہے-”
وزیر دھڑکتے دل کے ساتھ دربار پہنچا تو اس سے تینوں سوال پوچھے گئے- وزیرنے کہا اس کا جواب تو میرا نوکر بھی سے سکتا ہے-
نوکر کو بلایا گیا- بادشاہ نے اس کے سامنے تینوں سوال دہرائے-
نوکر نے وہیں کھڑے کھڑے ایک جگہ زمین میں ڈنڈا گاڑتے ہوئے کہا:
” یہ زمین کا وسطی مقام ہے، اگر حضور کو شک ہو تو پیمائش کروا لیں…”،
دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے نوکر نےعرض کیا اگر حضور اپنے گھوڑے پر بیٹھ کر سورج کی رفتار سے اسے دوڑائیں تو وہچوبیس گھنٹوں میں زمین کا چکر لگا سکتےہیں-
اور تیسرے سوال کے جواب میں نوکر نے کہا کہ جہاں تک آپ کی قیمت کا سوال ہے تو جناب والا! حضرت عیسیٰ علیہ السلامکے حواریوں نے ان کی قیمت تیس روپے مقرر کی تھی، یقیناً آپ ان سے زیادہ قیمتی نہیں لہذا آپ کی قیمت 29 روپے بنتی ہے”-
خود کو عقل کل سمجھنے والے بادشاہ کےپاس سوائے خاموشی کے کوئی چارہ نہ رہا۔

Reality of Pakistani Boyfriends


بوائے فرینڈز بڑے اعلیٰ قسم کے لوگ ہوتے ہیں یہ جس لڑکی سے سچے پیار کی قسمیں کھاتے ہیں شام کو اسی کی تصویر موبائل پر دوستوں کو دکھا کر فخر سے کہتے ہیں " بچی چیک کر " انہوں نے ہر لڑکی کا نام گڑیا رکھا ہوتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی جذباتی کفیت میں کسی اور لڑکی کا نام منہ سے نہ نکل جائے ۔ ان بوائے فرینڈز کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح گرل فرینڈ کی سہیلی کا موبائل نمبر لیا جائے اگر نمبر مل جائے تو چار دن بعد سہیلی کی سہیلی کا نمبر تلاش کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ایسے بوائے فرینڈز گھر میں اپنی والدہ کو بےبے اور والد صاحب کو ابا کہتے ہیں لیکن لڑکی کے سامنے مام ڈیڈ سے کم پر بات نہیں کرتے یہ ہر روز گرل فرینڈ کو فون پر بتاتے ہیں کہ کوئی خوبصورت اور امیر لڑکی ہاتھ دھو کر انکے پیچھے پڑ گئی ہے اور بلا وجہ فون کرکے تنگ کرتی ہے یقین کرو گڑیا میں نے اسے بہت دفعہ ڈانٹا ہے لیکن وہ باز نہیں آتی امریکہ میں رہتی ہے اور ڈاکٹر ہے چھٹیوں پر پاکستان آئی ہوئی ہے پتا نہیں میرے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے ، آگے سے گڑیا اگر اس کا نمبر مانگ لے تو بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ پتہ نہیں اس نے کیسا نمبر لیا ہوا ہے جو میرے موبائل سکرین پر شو نہیں ہوتا گڑیا بےچاری ساری رات سوچتی رہتی ہے کہ اس امیر زادی کا فون میری موجودگی میں کیوں نہیں آتا بوائے فرینڈز ایک جملہ بڑے تواتر سے بولتے ہیں " گڑیا مجھے کوٹھی، پیسے اور کاروں سے کوئی دلچسپی نہیں میں چاہوں تو ایک دن میں کروڑوں کما سکتا ہوں حالانکہ پیسے سے انکی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہر پندرہ دن بعد تین سو کا آکڑہ اس امید پرضرور لگاتے ہیں کہ شاید چند ہزار انعام لگ جائے ایسے بوائے فرینڈز ہر گھنٹے بعد گڑیا کا ہاتھ پکڑ کر لمبی لمبی ضرور چھوڑتے ہیں کہ دل کرتا ہے تمہارا ہاتھ پکڑ کر سنگا پور نکل جاؤ حالانکہ خدا گواہ ہے کہ انکے پاس سنگاپور تو کیا خان پور تک کا کرایہ بھی نہیں ہوتا یہ چاہتے ہیں کہ لڑکی پر رعب بھی پڑ جائے اور خرچہ بھی نہ ہو اسی لیے لڑکی کو کھانا کھلانے لے جائیں تو ہوٹل کے قریب پہنچ کر سر پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ اوہ شٹ یار اے ٹی ایم تو میں ہی بھول آیا اب کیا کریں ؟ چلو سٹہ کھاتے ہیں ۔ جبکہ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس اے ٹی ایم تو کیا بنک اکاؤنٹ تک نہیں ہوتا
مختلف سٹیٹس کے بوائے فرینڈز بھی مختلف ہوتے ہیں انکی فرمائشیں بھی انکے کلچر کے مطابق ہوتی ہیں امیر بوائے فرینڈز ہر دوسرے روز لڑکی سے یہی فرمائش کرتا نظر آئے گا کہ یار چلو تو سہی وہاں سب اپنے یار دوست ہی ہوتے ہیں غریب بوائے فرینڈ اپنے ہی انداز میں فرمائش کرتا ہے پلیز عاشی تم اپنے کار والے کزن سے دور رہا کرو ایسے لوگ بھیڑیے ہوتے ہیں بوائے فرینڈز کو یہ بھی زعم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی لڑکیوں میں بہت مقبول ہیں اس بات کا اظہار وہ اکثر اپنی گرل فرینڈ سے کرتے رہتے ہیں " عاشی یقین کرو میرے بڑے ماموں کی چھوٹی بیٹی جو انجینیر بن رہی ہے مجھ میں بہت انٹرسٹد ہے میں جب بھی انکے گھر جاتا ہوں میرے اردگرد ہی گھومتی رہتی ہے اور میرے لیے بھاگ بھاگ کر چیزیں لاتی ہے ، دو چار دفعہ تو خودکشی کی دھمکی بھی دے چکی ہے لیکن میں اسے یہی سمجھاتا ہوں کہ یہ بری بات ہے ، اب عاشی بے چاری کو کیا پتہ کہ انکے ماموں کے تو صرف تین بیٹے ہیں
ایسے بوائے فرینڈز نے ہر لڑکی کو شادی کا جھانسا دے رکھا ہوتا ہے تاہم جب شادی ہو جاتی ہے تو رونی صورت بنا کر سارا ملبہ ماں پر ڈال دیتے ہیں اور بوکھلاہٹ میں یہ بھی نہیں سوچتے کہ کیا کہہ رہے ہیں "عاشی یقین کرو میں بہت مجبور ہوگیا تھا میری ماں نے اپنی پگ میرے قدموں میں رکھ دی تھی تو میں کیا کرتا : میں لڑکوں کی رگ رگ سے واقف ہوں یہ بڑی چیز ہوتی ہیں ، چاہے تھیٹر میں نرگس کا ڈانس دیکھ رہے ہو لیکن جیسے ہی گرل فرینڈ کی کال آجائے فورا" کاٹ کر میسج کر دیتے ہیں کہ جان ایک جنازے میں آیا ہوا ہوں بعد میں بات کروں گا
ایسے بوائے فرینڈز کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا ہے ، لڑکی اگر پوچھے کہ کل تو تم نے کہا تھا کہ نئی گاڑی لینے لگا ہوں تو فورا" لاپرواہی سے کہیں گے گاڑی کا کوئی مسلئہ نہیں وہ تو میں آج لے لوں لیکن جو مزہ سکوٹر میں ہے وہ گاڑی میں کہاں ۔ اس قسم کے بوائے فرینڈز پہلے بڑی معصومیت سے لڑکی کو اپنے سابقہ افیئرز کے بارے میں بتا دیتے ہیں پھر مکاری سے لڑکی کو بھی آمادہ کرلیتے ہیں کہ وہ بھی اپنا بتائے لڑکی بیچاری کچھ کہہ بیٹھے تو سمجھو پھر گئی کام سے
ان بوائے فرینڈز کو نئی نئی شرٹس پہننے کا بھی بہت شوق ہوتا ہے بڑے عامیانہ انداز میں لڑکی کو بتائیں گے کہ جب تک ہفتے میں levi's کی دو شرٹس نہ خرید لوں چین ہی نہیں آتا حالانکہ انکی اکثر شرٹس تب بنتی ہیں جب ابا کی دھوتی میں بُر آنے لگے ۔ یہ اکثر لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر جاتے ہوئے ٹی روز پرفیوم لگا لیتے ہیں چاہے اس سے لڑکی آدھے رستے میں ہی بے ہوش ہو جائے
سنہرے خواب دکھانا بھی ان بوائے فرینڈز پر ختم ہوتا ہے ٹوٹے ہوئے کلچ والی موٹر سائیکل میں پچاس روپے کا پٹرول ڈلوا کر لڑکی کو سیر کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ عاشی میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے بزنس کی ایک برانچ کینیڈا بھی کھول لوں اور عاشی خوشی سے جھوم اٹھتی ہے تاہم بعد میں سارا رستہ سوچتی رہتی ہے کہ کیا کینیڈا میں بھی قلندری دال چاول بک سکتے ہیں یہ بوائے فرینڈز ہر دو منٹ بعد لڑکی کو یہ بھی ضرور باور کرواتے ہیں کہ جان اگر مجھ سے دل بھر جائے تو ایک اشارہ کردینا ساری عمر اپنی شکل نہیں دکھاؤں گا جبکہ حقیت یہ ہوتی ہے کہ لڑکی ایک اشارہ تو کیا سو جوتیاں بھی مار لے تو بھی پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ یہ لڑکیوں کے محفل میں جان بوجھ کر پامسٹری کی باتیں چھیڑ لیتے ہیں لڑکیاں تھوڑی سے توجہ دیں تو بڑی بے نیازی سے کہتے ہیں کہ نہیں نہیں میں یہ کام بہت عرصہ ہوا چھوڑ چکا ہوں اس کے ٹھیک دس منٹ بعد کسی لڑکی کا ہاتھ تھامے بڑے انہماک سے دیکھ کر اسے بتا رہے ہوتے ہیں کہ آپ زندگی میں ایک دفعہ بہت بیمار ہوئی تھی
بوائے فرینڈز نے زندگی میں خود چاہے کسی فقیر کو چونی تک نہ دی ہو لیکن لڑکی ساتھ ہو تو ہر فقیر کو دس کا نوٹ پکڑا دیتے ہیں یہ لڑکی سے کبھی نہیں کہتے کہ فلاں کتاب خرید لو بہت اچھی ہے انکی ایک ہی فرمائش ہوتی ہے کہ پلیز عاشی اب ویب کیم لے بھی لو نا۔ اگرچہ عاشی کے پاس آل ریڈی ویب کیم ہوتا ہے لیکن وہ بتانے کا رسک نہیں لے سکتی ۔ اس قسم کے بوائے فرینڈز کو ہر وہ لڑکی پسند ہوتی ہے جو زندہ ہو اور سانس لیتی ہو
قیامت کے روز جب یہ بوائے فرینڈز اٹھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ انکے نامہ عشق میں دس بیس چنگڑیاں بھی شامل ہونگی ۔ میں کل ڈکشنری میں بوائے فرینڈز کا مطلب تلاش کر رہا تھا لغاتِ عاشقیہ کے مطابق بوائے فرینڈز کو اردو میں چپڑقناطیہ اور پنجابی میں چوّل کہتے ہیں یہ جان کر مجھے بہت مسرت ہوئی کہ مجھے کسی لڑکی نے اس نام سے نہیں پکارا اللہ کا شکر ہے جو بھی بلاتی ہے پورے احترام سے بغلول کہہ کر بلاتی ہے یہ ہوتی ہے دل سے عزت

Box of Chicken

ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺮ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﺍ ﺳﺎ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺁﮨﻨﯽ ﭘﻨﺠﺮﮦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻟﮓ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﺗﻨﯽ ﺗﮭﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮩﻤﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮭﮍ ﭘﮭﮍﺍﮨﭧ ﺗﻮ ﮐﺠﺎ ﮐُﮍﮎ ﮐُﮍﮎ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ۔ ﮨﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﮐﺎ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﺳﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐُﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺲ ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺳﯽ ﭘﮭﮍ ﭘﮭﮍﺍﮨﭧ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﺳﯽ ﮐُﮍﮎ ﮐُﮍﮎ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﭘﮭﺮ ﮈﺭﯼ ﺳﮩﻤﯽ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﻟﮓ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﭘﻨﺠﺮﮦ ﮨﺮ ﺻﺒﺢ ﺑﮭﺮﺗﺎ، ﮨﺮ ﺷﺎﻡ ﺗﮏ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﮔﻠﯽ ﺻﺒﺢ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﺝ ﮐﺎ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺁﮨﻨﯽ ﭘﻨﺠﺮﮦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺍﺣﺘﺠﺎﺟﯽ ﭘﮭﮍ ﭘﮭﮍﺍﮨﭧ ﺍﻭﺭ ﮐُﮍﮎ ﮐُﮍﮎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻣﺮﻏﯿﺎﮞ ﺷُﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻓﻌﮧ ﻭﮦ ﺑﭻ ﮔﺌﯿﮟ۔۔۔ !! " ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﺎﮬﯿﮯ

Story of a Woman and Magical Frog



ایک عورت گالف کھیل رہی تھی کہ ایک ہٹ کے بعد اس کی گیند قریبی جنگل میں‌ جا گری، بال ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ جھاڑیوں میں پہنچ گئی جہاں گیند پڑی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ادھر ایک مینڈک کانٹے دار جھاڑی میں پھنسا ہوا ہے۔ مینڈک نے عورت کو دیکھ کر کہا، خاتون اگر آپ مجھے ان کانٹوں سے نجات دلا دیں گی تو میں آپ کی تین خواہشات پوری کروں گا۔ یہ سن کر خاتون نے فوراً ہاتھ بڑھا کر مینڈک کو کانٹوں سے نجات دلا دی۔
مینڈک نے کانٹوں سے نجات پا کر شکر ادا کیا اور خاتون سے کہنے لگا جی اب آپ کہیں کیا خواہش ہے آپ کی، مگر میں معافی چاہتا ہوں‌ کہ میں‌ آپ کو یہ بتانا بھول گیا کہ آپ جو کچھ مانگیں گی، آپ کے شوہر کو وہی چیز دس گنا ملے گی۔
خاتون کو یہ سن کر بڑا غصہ آیا، خیر انہوں نے کہا کوئی بات نہیں۔
میری پہلے خواہش ہے کہ میں‌ دنیا کہ سب سے خوبصورت عورت بن جاؤں۔ مینڈک نے کہا سوچ لیں آپ کا شوہر دس گنا خوبصورت ہو جائے گا؟ کوئی بات نہیں، میں سب سے خوبصورت ہوں گی، تو وہ مجھے ہی دیکھے گا خاتون نے کہا۔ مینڈک نے کوئی منتر پڑھا اور خاتون بے حد خوبصورت ہو گئی۔
دوسری خواہش کہ میں سب سے امیر ہو جاؤں۔ مینڈک نے کہا سوچ لیں آپ کا شوہر آپ سے بھی دس گنا امیر ہو جائے گا؟ خاتون نے کہا کوئی مسئلہ نہیں اس کی دولت یا میری، ایک ہی بات ہے۔ مینڈک کا منتر اور وہ خاتون شوں کر کے امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی خاتون آپ کی تیسری خواہش؟ مینڈک نے پوچھا؟
مجھے ایک ہلکا سا دل کا دورہ یعنی ہارٹ اٹیک ہو جائے۔
اس کہانی کا سبق:‌ ’’خواتین بہت چالاک ہوتی ہیں، ان سے زیادہ ہوشیاری اچھی نہیں‘‘
.
.
.
خواتین پڑھنے والیوں کے لیے:
یہ لطیفہ ختم - اب آپ آرام سے اس سے مزے لیں اور بس۔۔۔۔۔۔
.
حضرات آپ آگے پڑھیں:
آپ کے لیے کچھ اور ہے آگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جی جناب - خاتون کے شوہر کو خاتون کے مقابلے میں دس گنا ہلکا ہارٹ اٹیک ہوا۔

اس کہانی کا اصل سبق:
’’خواتین خود کو بہت عقلمند سمجھتی ہیں حالانکہ ایسا ہے نہیں، انہیں یہ سمجھتے رہنے دیں اور محظوظ ہونے دیں۔‘‘

Truth Of Women

کوئی مِیری ساری زِندگی کے تَجربوں کا نِچوڑ مانگے تو میں کہوں گا کبھی کِسی عورت کو اُس کی رضا کےبغیر مت اپنانا اور اپنا لو تو کبھی اُس سے مُحبّت کی خُواہش مت کرنا ــ
میں نے عورت کو ہمیشہ بہت کمزور سمجھا تھا ۔
مُوم کی گُڑیا کی طرح لیکن ایک عُمر بَرتنے کے بعد میں نے یہ جانا ہے کہ عورت مُوم ہے یا پتھر ؟؟ اِس کا فیصلہ وہ خودکرتی ہے ۔
کسی دوسرے شخص کو اِسے مُوم یا پتھر کا خِطاب دینے کا حق نہیں ہوتا وہ خود چاہے تو محبوب کے اِشاروں کی سِمت مُڑتی رہتی ہے ـ اور پتھر بننے کا فیصلہ کر لے تو کوئی شخص بھکاری بن کر بھی اُس کی ایک نگاہِ التفات نہیں پا سکتا ـ

Learn Urdu in easy way




پہلے ہمارے بچے انگریزی میں فیل ہوتے تھے ‘ آجکل اُردو میں ہوجاتے ہیں‘ اس کی ایک وجہ اُردو کی مشکلات بھی ہیں‘ میں سمجھتا ہوں کہ اُردو کو اگر مزید آسان کر دیا جائے تو نہ صرف بچوں کے فیل ہونے کی شرح کم ہوجائے گی بلکہ اُن کی اُردو میں دلچسپی بھی بڑھ جائے گی‘ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ اگر چاہے تو بھاری معاوضے پر میری خدمات ’’فی سبیل اللہ‘‘ حاصل کر سکتا ہے۔
ہمارے بچے اُردو کے محاورات میں بڑا پھنستے ہیں لہٰذا میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا ہے کہ محاوروں کو نہایت ہی آسان کر دیا ہے‘ جو سٹوڈنٹ اردو میں فیل ہونے کی ہیٹرک کر چکے ہیں وہ چاہیں تو اِن محاورات سے استفادہ کرکے اپنی میٹرک کی سیٹ مستقل کروا سکتے ہیں۔آئیے کلاس شروع کرتے ہیں!
*ہاتھ صاف کرنا
رفیق ہمیشہ کھانے کے بعد اپنے ہاتھ صاف کرتا ہے ۔
*ہاتھ پیلے کرنا
ثریا نے کھانے میں ہلدی ڈالی تو اس کے ہاتھ پیلے ہو گئے۔
*بال بال بچنا
حجام نے قینچی اٹھائی ہی تھی کہ بجلی چلی گئی ….. اور یوں اسلم کے بال بال بچ گئے ۔
*آنکھوں میں خون اترنا
جمیل کی آنکھوں میں پتھر لگنے سے اس کی آنکھوں میں خون اُترآ یا۔
*بھائی چارہ
تنویر نے چارے والے کی دُکان پر جا کر کہا ’’بھائی چارہ تو دے دو‘‘
*آب آب ہونا
میرا چھوٹا بھائی اکثر رات کو آب آب ہو جاتا ہے ۔
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
جب کوتوال نے چور کو اُلٹا لٹکا دیا تو اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے لگا ۔
موسلا دھار
پولیس کو دیکھتے ہی چور موسلا دھار دوڑنے لگا ۔
دال میں کالا
کالی مرچ کو دیکھتے ہی جنید چیخا ….. امی! دال میں کچھ کالا ہے ۔
*گھر کی مرغی دال برابر
نسیم کے گھر کی مرغی دال برابر رکھی ہوئی ہوتی ہے ۔
*اپنا الو سیدھا کرنا
جمیل کا اُلو الٹا ہوگیا تو اس نے فوراًاپنا الو سیدھا کر لیا۔
*سیدھے منہ بات نہ کرنا
جب سے نعیم کو لقوہ ہوا ہے ، وہ کسی سے سیدھے منہ بات نہیں کرتا ۔
*نام روشن کرنا
ریاض نے انرجی سیور پر اپنا نام لکھ کر روشن کردیا۔
*الٹے پاؤں بھاگنا
مولوی صاحب کو دیکھتے ہی چڑیل نے الٹے پاؤں بھاگنا شروع کر دیا۔
*سر پر سوار کرنا
باپ نے بچے کو خوش کرنے کے لئے اپنے سر پر سوار کر لیا ۔
اپنے گریبان میں جھانکنا
نذیر نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا تو اس کی بنیان پھٹی ہوئی تھی ۔
*آناً فاناً
عرفان آناً فاناً پیدا ہوگیا تھا۔
*قصہ تمام کرنا
جب دادا ابو کو نیند آنے لگی تو انہوں نے بچوں سے معذرت کی اور اپنا قصہ تمام کر دیا ۔
*خون کے گھونٹ پینا
ڈریکولا ہمیشہ خون کے گھونٹ پیتا ہے ۔
*باغ باغ ہونا
لمبی لمبی چھوڑنا
اشتیاق چھوٹی چھوٹی پتنگیں پکڑ لیتا ہے اور لمبی لمبی چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔
*آنتیں قل ہو اللہ پڑھنا
جاوید اتنا نیک ہے کہ اس کی آنتیں بھی قل ہو اللہ پڑھتی ہیں۔

Poetry by a Scholar, Lover, Blind and Poor


ایک بادشاہ نے چار آدمی طلب کئے ان میں سے ایک عالم تھا ، دوسرا 

عاشق تھا ، تیسرا نابینا تھا اور چوتھا غریب تھا ، بادشاہ نے ان چاروں 

سے کہا کہ میرے دماغ میں ایک مصرعہ آیا ہے تم لوگ اسکو مکمل کرو 

، مصرعہ یہ ہے:

( اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں )

چاروں نے تھوڑا سوچ بچار کیا اور اپنے اپنے حساب سے شعر بنائے جو

کچھ یوں تھے ۔

عالم :

بت پرستی دین احمد میں کبھی آئی نہیں
اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

عاشق :

ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں
اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

نابینا :

ہم میں بینائی نہیں اور اس میں گویائی نہیں
اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں

غریب :

مانگتے پیسے مصور جیب میں پائی نہیں
اسلئے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں 

Power of Punishment

ایک دفعہ ایک بادشاه نے ایک کمہار کے گدھوں کو ایک قطار میں چلتے دیکھا۔ کمہار کو بلایا اور پوچھا یہ کس طرح سیدھے چلتے ہیں۔ کمہار نے کہا جو لائن توڑتا ہے اس کو سزا دیتا ہوں۔ بادشاہ بولا میرے ملک میں امن و امان ٹھیک کر سکتے ہو۔ کمہار نے حامی بھر لی اور بادشاہ کےساتھ چل پڑا۔
دارالحکومت پہنچتے ہی عدالت لگا لی‘ چور کا مقدمہ آیا تو چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی۔ جلاد نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کیا کہ چور کو انکی سرپرستی حاصل ہے۔ کمہار نے پھر حکم دیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ وزیراعظم سمجھا شاید جج کو پیغام کی صحیح سمجھ نہیں آئی۔ وہ آگے بڑھا۔ کمہار کے کان میں کہا کہ یہ اپنا آدمی ہے۔ کمہار نے بطور جج فیصلے کا اعلان کیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے اور وزیراعظم کی زبان کاٹ دی جائے بادشاہ نے فیصلہ پر عمل کرایا۔ آگ و خون کی لپیٹ میں آئے ہوئے ملک میں ایک فیصلہ سے ہی مکمل امن قائم ہو گیا۔
اگر گنہگار کی سفارش کرنےوالی زبان کاٹ دی گئی۔
اگر اپنوں کی سرپرستی چھوڑ دی گئی۔
اگر مخالفین کو پھنسانے کی سیاسی چالیں بند کر دی گئیں
تو گولیاں بھی بند ہو جائیں گی اور قتل و غارت بھی رک جائےگا، امن بھی قائم ہو جائےگا



ایک صاحب نے اپنے گھر کی اوپر والی منزل ایک فوجی جوان کو کرائے پر دی، اس گھر کی چھت لکڑی کی تھی اس وجہ سے فوجی کے چلنے پھرنے کی آوازوں سے انکا ذہنی سکون درہم برہم ہونے لگا جس پر انہوں نے اس سے شکائت کی،
فوجی جوان نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ وہ سارا دن باہر رہے گا اور صرف رات کو سونے کےلیئے گھر آیا کرے گا تاکہ آپ لوگوں کے آرام اور سکون میں خلل نہ پڑے،
اس معاہدے کے بعد کچھ یوں ہوا کہ فوجی صاحب رات کو دیر سے آتے اور بستر پر بیٹھ کر اپنے بھاری بھرکم بوٹ اتار کر دور کونے میں پھینک دیتے، جسکی وجہ سے سوئے ہوئے مالک مکان کی آنکھ کھل جاتی اور پھر کافی دیر خوار ہونے کے بعد دوبارہ نیند آیا کرتی۔
ایک مرتبہ پھر ان فوجی صاحب سے مزاکرات ہوئے تو انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ وہ بوٹ آرام سے رکھا کریں گے، چنانچہ اس رات جب فوجی جوان واپس گھر آیا تو ایک جوتا اتار کر زور سے کونے میں پھینک دیا،، مگر فوراً معاہدہ یاد آیا کہ جوتے تو آرام کے ساتھ رکھنے تھے،،،،چنانچہ دوسرا جوتا آرام سے رکھ دیا،،،،
اگلے دن جب وہ ڈیوٹی پر جانے کے لیئے تیار ہوا تو انکے مالک مکان پوری فیملی سمیت ہاتھ باندھے کھڑے تھے۔۔فوجی نے دریافت کیا کہ بزرگوار میں نے ایک جوتا غلطی سے فرش پر پھینک دیا تھا مگر مجھے فوری طور پر یاد آگیا اور دوسرا جوتا میں نے معاہدے کے مطابق آرام سے رکھ دیا تھا،،
اس پر مالک مکان نے کہا،،،جناب آپ کی بڑی مہربانی،،،،! مگر ہم سب لوگ ساری رات دوسرے جوتے کی آواز سننے کو ترس گئے تاکہ پر سکون ہو کر سو سکیں.



King and Countryman


ایک دفعہ ایک بادشاه نے ایک کمہار کے گدھوں کو ایک قطار میں چلتے دیکھا۔ کمہار کو بلایا اور پوچھا یہ کس طرح سیدھے چلتے ہیں۔ کمہار نے کہا جو لائن توڑتا ہے اس کو سزا دیتا ہوں۔ بادشاہ بولا میرے ملک میں امن و امان ٹھیک کر سکتے ہو۔ کمہار نے حامی بھر لی اور بادشاہ کےساتھ چل پڑا۔

دارالحکومت پہنچتے ہی عدالت لگا لی‘ چور کا مقدمہ آیا تو چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا دی۔ جلاد نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کیا کہ چور کو انکی سرپرستی حاصل ہے۔ کمہار نے پھر حکم دیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے۔ وزیراعظم سمجھا شاید جج کو پیغام کی صحیح سمجھ نہیں آئی۔ وہ آگے بڑھا۔ کمہار کے کان میں کہا کہ یہ اپنا آدمی ہے۔ کمہار نے بطور جج فیصلے کا اعلان کیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے اور وزیراعظم کی زبان کاٹ دی جائے بادشاہ نے فیصلہ پر عمل کرایا۔ آگ و خون کی لپیٹ میں آئے ہوئے ملک میں ایک فیصلہ سے ہی مکمل امن قائم ہو گیا۔

اگر گنہگار کی سفارش کرنےوالی زبان کاٹ دی گئی۔

اگر اپنوں کی سرپرستی چھوڑ دی گئی۔

اگر مخالفین کو پھنسانے کی سیاسی چالیں بند کر دی گئیں

تو گولیاں بھی بند ہو جائیں گی اور قتل و غارت بھی رک جائےگا، امن بھی قائم ہو جائےگا

Trust of a Child


گلی میں کھیلنے والے بچوں کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ ایک بچے نے دوسرے بچے کو مارا تو مار کھانے والا روتا ہوا اپنے گھر کی طرف بھاگا لیکن تھوڑی ہی دیر میں پھر آ موجود ہوا۔ اب اس کے چہرے پر حد درجہ اطمینان تھا۔ جس بچے سے اس کی لڑائی ہوئی تھی، اس کو اس نے کہا

" میں نے اپنی ماما سے کہہ دیا ہے "

اور یہ کہہ کر وہ دوبارہ کھیل میں شامل ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس بچے کو حد درجہ اطمینان کس چیز نے دیا ہے ۔اس کی ‘ماما’ نہ تو موقع پرآئی ہے ، نہ اس نے دوسرے بچے کو کچھ کہا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پیغام بھیجا ہے مگر اس کا بیٹا پھر بھی مطمئن ہے ۔غور و فکر سے اس پر واضح ہوا کہ اس کا اطمینان در اصل اس یقین کا نتیجہ تھا جو اس کو اپنی ماں پر تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی ماں میں اتنی طاقت ہے کہ وہ اس کی بے عزتی کا بدلہ لے سکے اور یہ کہ وہ لازماً ایسا کرے گی۔مگر یہ کہ، وہ کب ایسا کرے گی، کس طریقے سے کرے گی ، کتنا کرے گی، یہ سب کچھ اس نے اپنی ماں پر چھوڑ دیا تھا۔اور یہ بھی اس کا یقین تھا کہ وہ یقینا بہتر ہی کرے گی۔

تفویض اور اپنے معاملات کو ایک مشفق اور طاقتور ہستی کے سپرد کرنے کا یہ عمل اسے بہت بھایا اور ساتھ ہی وہ بہت شرمندہ بھی ہوا جب اسے یہ احساس ہوا کہ اس کا تو اپنے مالک سے اتنا بھی تعلق نہیں جتنا کہ اس بچے کا اپنی ماں سے ہے ۔

اس نے یاد کیا کہ اس کی زندگی میں کتنے مواقع ایسے ہیں کہ جب اس نے سجدے میں سر رکھ کر یہ کہا ہو کہ مالک میرے بس میں جو تھا وہ تو میں نے کر لیا اب معاملہ تیرے سپرد ہے اور یہ کہہ کر وہ اس بچے کی طرح مطمئن ہو گیا ہو۔ اور جب تہی دامنی کی احساس نے اسے بالکل ہی سرنگوں کر دیا تو اس نے حساب لگایا کہ اصل میں گڑ بڑ دو جگہ پر ہے ۔ اول تو اسے مالک کی طاقت ، قدرت اور عظمت کا کامل استحضار ہی نہیں اور اگر ہے تو پھر اس کی حکمت پہ شاید کامل ایمان نہیں۔ وگرنہ یہ ممکن نہ تھاکہ تفویض کے بعد اسے اطمینان حاصل نہ ہو جاتا۔ اور پھر اس نے افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد کہہ کر یہ عہد کیا کہ آئند ہ وہ تفویض کا یہ عمل بچوں سے سیکھے گا اور ہر اہم موقع پر یہ کہہ کر اپنے ایمان کی تربیت کرے گا کہ میں نے اپنے اللہ سے کہہ دیا ہے ۔"

King of Jungle


پاکستان کے ایک چڑیا گھر میں ایک شیر بہت پریشان ہو گیا کیونکہ اسے روزانہ کا صرف ایک سیر گوشت دیا جاتا تھا اور مزید طلب کرنے پر اسے کہہ دیا جاتا تھا کہ مہنگائی بہت ہے۔ اتنے سے ہی کام چلائو
جب پاکستان اور دبئی کے درمیان جانوروں کے انتقال کا منصوبہ فائنل ہو گیا تو اس شیر کو دبئی ٹرانسفر کرنے کے لیے منتحب کر لیا گیا۔ وہ شیر سمجھا کہ میری دعائیں قبول ہو گئیں ہیں۔ اب صاف ستھرا زو، اے سی اور پیٹ بھر کھانا ملے گا۔
دبئی پہنچنے کے بعد پہلے دن اسے ایک انہتائی خوبصورتی اور مہارت سے سیلڈ تھیلا ملا۔ شیر بہت خوش ہوا اور جلدی سے تھیلا کھول دیا۔ تو اس میں صرف چند کیلے تھے۔ شیر بہت حیران ہوا۔ پھر اس نے سوچا کہ شاید غلطی سے یہ تھیلا میرے پاس آ گیا ہو تو اس نے کیلے کھائے پانی پیا اور اللہ کا شکر ادا کر کے سو گیا۔
اگلے دن پھر وہی بات ہوئی۔ کھانے کا تھیلا کھولنے پر اندر سے کیلے نکلے شیر کا دماغ کھول گیا۔ اس ڈلیوری بوائے پر انتہائی غصہ آ گیا۔ بولنے لگا کل آ لینے دو اس ڈلیوری بوائے میں اس نے نمٹ لوں گا۔
اگلے دن پھر ڈلیوری بوائے آیا تو شیر نے اسے روک لیا۔ اور اس کے سامنے پیکٹ کھولا۔ اندر سے پھر کیلے نکلے۔ شیر نے ڈلیوری بوائے کو بہت غصے کہا تم ایسے کام کرتے ہو تمہیں پتہ ہی نہیں کہ شیر کیا کھا تا ہے۔ روز غلط کیلوں کا پیکٹ دے جاتے ہو۔ تمہیں پتہ نہیں کہ میں شیر ہوں جنگل کا بادشاہ ہوں ،اور جنگل کا بادشاہ گوشت کھاتا ہے
ڈلیوری بوائے نے بہت اطمینان سے اس کی ساری بات سنی اور بہت نرم اور پرسکون لہجے میں بولا۔
"سر میں جانتا ہوں کہ آپ جنگل کے بادشاہ ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ معذرت کے ساتھ کہ آپ کو یہاں بندر کے ویزے پر لایا گیا ہے۔

Story of a Jew and Hypocrite


ایک یہودی اور ایک منافق کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا اور تصفیہ کے لئے یہودی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث بنانے کی تجویز رکھی ، منافق یہودکے اس سردار کعب بن اشرف کو ثالث بنانے پر مصر تھا ، کافی حیل وحجت کے بعد دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث بنانا مان لیا ۔چنانچہ وہ دونوں اپنا قضیہ لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا کیونکہ اس کا حق پر ہونا ثابت تھا لیکن منافق نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور کہنے لگا کہ اب ہم عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو ثالث بنائیں گے ، وہ جو فیصلہ دیں گئے ہم دونوں کے لئے واجب التسلیم ہوگا ۔ یہودی نے معاملہ کو نمٹانے کی خاطرمنافق کی یہ بات بھی مان لی اور اس ساتھ حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کے پا س گیا ۔ یہودی نے حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ بتایا کہ ہم دونوں پہلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث مان کر ان کے پاس گئے تھے اور انہوں نے میرے حق میں فیصلہ دیا تھا مگر یہ شخص (منافق ) محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ ہوا اور اب مجھے آپ کے پاس لے کر آیا ہے ۔ حضرت عمر نے منافق سے پوچھا : اس (یہودی ) نے جو بیان کیا ہے وہ صحیح ہے ؟منافق نے تصدیق کی کہ ہاں اس کا بیان بالکل درست ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہا : تم دونوں یہیں ٹھہرو ،جب تک میں نہ آؤں واپس نہ جانا ۔ یہ کہہ کر گھر میں گئے اور تلوار لے کر باہر نکلے اور پھر اس تلوار سے منافق کی گردن اڑا دی اور کہا جو شخص اللہ اور اللہ کے رسول علیہ السلام کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے اس کے حق میں میرا فیصلہ یہی ہوتا ہے ،
اس منافق کے وارث حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ پر قتل کا دعویٰ کیا اور قسمیں کھانے لگے کہ حضرت عمر رضی اللہ کے پاس تو صرف اس وجہ سے گئے تھے کہ شایدوہ اس معاملہ میں باہم صلح کرادیں یہ وجہ نہ تھی کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے انکار تھا۔ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
الم تر الی الذین یزعمون انہم امنوبما انزل الیک وماانزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت ۔
" کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی وہ اپنے مقدمے طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں (حالانکہ ان کو یہ حکم ہواہے کہ اس کا کفر کریں ) ۔"
ان آیات میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا لقب:::فاروق::: فرمایا۔

Age of a Woman


دو سہیلیاں آپس میں گفتگو کر رہی تھیں۔ ایک کہنے لگی : میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک میں ۲۵ برس کی نہیں ہو جاتی شادی نہیں کروں گی۔ دوسری بولی میں نے بھی ایک فیصلہ کیا ہے۔ پہلی سہیلی کے پوچھنے پر بولی : میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک میری شادی نہیں ہو جاتی میں ۲۵ کی نہیں ہوں گی۔ یہ پھلجڑی جس حد تک لطیفہ ہے اس سے زیادہ حقیقت بھی ہے۔ یہ تو سب ہی کہتے یں کہ لڑکیاں بڑی تیزی سے بڑھتی یں مگر یہ کوئی نہیں کہتا کہ لڑکیاں جلد ہی (عمر میں) بڑھنا "بند" بھی تو کر دیتی ہیں اور عمر کے ایک "پسندیدہ" مقام پر پہنچ کر تو اس طرح "رک " جاتی ہیں جیسے ۔۔۔ ایک فلمی ہیروئن جو گزشتہ تیس برسوں سے ہیروئن چلی آ رہی تھی، فلم کے ایک سین میں اپنے حقیقی بیٹے سے بھی چھوٹی عمر کے ہیرو سے کہنے لگی۔ اچھا یہ تو بتائیں کہ آپ کے نزدیک میری عمر کیا ہو گی۔ ہیرو کہنے لگا بھئی تمہاری باتوں سے تو اندازہ ہوتا ہے کہ تم بائیس برس کی ہو مگر تمہاری فیگر بتلاتی ہے کہ تم بیس برس سے زائد کی نہیں ہو سکتیں اور اگر چہرے کی معصومیت دیکھو تو یوں لگتا ہے جیسے تم صرف اٹھارہ برس کی ہو۔ ہیروئن اٹھلاتی ہوئی بولی اللہ آپ کتنے ذہین ہیں آپ نہ صرف اسمارٹ بلکہ بلا کے "خانم شناس" بھی ہیں۔ ہیرو اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔ اور ان تمام عمروں کو جمع کر کے کوئی بھی تمہاری اصل عمر کا تخمینہ لگا سکتا ہے۔ "کٹ" ڈائریکٹر کی آواز گونجی اور فلم میں سے ہیرو کا یہ آخری جملہ کاٹ دیا گیا۔

ہمارے ہاں بہت سی باتوں کو پوچھنا ایٹی کیٹس کے خلاف سمجھا جاتا ہے جیسے آپ "عمر نازنین" ہی کو لے لیں۔ اگر آپ کسی خوبصورت سی مھفل میں کسی خوبصورت نازنین کی عمر دریافت کر لیں تو نہ صرف خوبصورت نازنین کی خوبصورتی ہوا ہو جاتی ہے بلکہ خوبصورت محفل کی خوبصورتی بھی رخصت ہو جاتی ہے۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ اسی کے ساتھ ہی آپ کو بھی محفل سے جبراً رخصت کر دیا جائے۔ اب بھلا ایسی باتوں کو پوچھنے کا کیا فائدہ کہ لوگوں کو آپ کی خیریت پوچھنی پڑ جائے۔

جس طرح خواتین سے (اس کی ذاتی) عمر پوچھنا منع ہے اسی طرح مرد حضرات سے ان کی تنخواہ پوچھنا بھی بقول شخصے ۔"بے فضول" ہے۔ خواتین اپنی عمر نفی اور تقسیم کے عمل سے کشید کر کے بتلاتی ہیں تو حضرات اپنی تنخواہ کو جمع ۔ جمع الجمع اور ضرب جیسے الاؤنس سے گزار کر بتلاتے یہں مگر یہاں یہ واضح ہو کہ مرد حضرات اس قسم کی حرکت گھر سے باہر ہی کیا کرتے ہیں۔ گھر میں تو۔۔۔ شوہر نے نئی نویلی بیوی کے ہاتھ میں پہلی تنخواہ لا کر رکھی۔ وہ روپے گنتے ہوئے بولی : باقی پیسے؟ کون سے باقی پیسے؟ تنخواہ تو یہی ملی ہے۔ بیوی شوہر کی طرف شک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔ مگر تمہاری امی نے تو میری امی سے کہا تھا کہ ۔۔۔ ہاں! ہاں! انہوں نے ٹھیک ہی کہا تھا۔۔۔ اور تمہارے بہن تو کہہ رہی تھی کہ میرے بھیا کو۔۔۔ بھئی وہ بھی ٹھیک کہہ رہی تھی۔ بیوی نے تنخواہ کی رقم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ تو پھر یہ کیا ہے؟ ۔۔۔ بھئی یہ بھی ٹھیک ہے۔ شوہر سمجھانے کے انداز میں بولا۔ بھئی دیکھو! تنخواہ کی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک ہوتی ہے بنیادی تنخواہ، جو تمہارے ہاتھ میں ہے، یہ سب سے کم ہوتی ہے اور یہی اصل تنخواہ ہوتی ہے۔ جب اس تنخواہ میں مختلف الاؤنس کو جمع کر لیا جائے جو کٹوتی کی مد میں کٹ جاتی ہے تو تنخواہ کی رقم اتنی بڑھ جاتی ہے جتنی میری امی نے تمہاری امی کو تمہارا رشتہ مانگتے وقت بتلایا تھا۔ اور اگر سال بھر تک آجر کی طرف سے ملنے والی سہولتوں کو جمع کر کے اسے رقم میں تبدیل کر لیں اور حاصل ہونے والی فرضی رقم کو بارہ سے تقسیم کر کے تنخواہ اور الاؤنس میں جمع کر لیا جائے تو بننے والی تنخواہ وہ ہوتی ہے جو میری بہن نے تمہیں منگنی والے روز بتلائی تھی۔ یہ سب سے زیادہ تنخواہ ہوتی ہے۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی! میں پوچھتی ہوں آخر تمہارے گھر والوں نے میرے گھر والوں کو تمہاری صحیح تنخواہ کیوں نہیں بتلائی تھی۔ بھئی دیکھو! اول تو یہاں کچھ پوچھنا منع ہے۔ دوم یہ کہ تمہارے گھر والوں نے کب میرے گھر والوں کو تمہارے اصل عمر بتلائی تھی۔

سو پیارے قارئین و قاریات! آپ میں سے اول الذکر کبھی موخر الذکر سے اس کی عمر اور موخر الذکر اول الذکر سے اس کی تنخواہ نہ پوچھے کہ اس سے امن و امان خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ اور جب امن و امان کو خطرہ لاحق ہو تو مارشل لاء آتا ہے اور جب مارشل لاء آتا ہے تو بنیادی حقوق سلب ہوتے ہیں اور جب بنیادی حقوق سلب ہوتے ہیں تو انقلاب آتا ہے اور جب انقلاب آتا ہے تو جمہوریت بحال ہوتی ہے اور جب جمہوریت بحال ہوتی ہے تو امن و امان پھر سے خطرے میں پڑ جاتا ہے اور جب امن و امان خطرے میں ہو تو ۔۔۔ آگے پوچھنا منع ہے۔ ویسے نہ پوچھنے کو اور بھی بہت سی باتیں ہیں جنہیں نہ پوچھ کر ہی امن و امان برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً کسی سیاسی پارٹی سے تو یہ پوچھنا یکسر منع ہے کہ اس کے پاس جلسے جلوس کے لئے اتنا سرمایہ کہاں سے آتا ہے۔ قرضدار سے قرضہ کی رقم کی واپسی کا پوچھنا تو صحت کے لئے بھی مضرہے۔ اسی طرح اپنی نصف بہتر کے سامنے کسی خاتون کا حال پوچھنا، کلاس روم میں استاد سے سوال پوچھنا، ڈرائیور سے ڈرائیونگ لائسنس کا پوچھنا، گرفتار شدگان کا اپنا جرم پوچھنا اور اخبار و جرائد سے اس کی تعداد اشاعت پوچھنا۔۔۔ مگر ٹھہریئے آخر میں ہم شاید کچھ زیادہ ہی غلط بات پوچھ بیٹھے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مدیر محترم ہم سے ہمارے گھر کا پتہ پوچھ بیٹھیں اور نوبت یہاں تک آن پہنچے کہ لوگ ہمیں اٹھائے ہمارے گھر کا رستہ پوچھتے نظر آئیں۔ اس سے بہتر تو یہی ہے کہ ۔۔۔ پوچھنا منع ہے۔ ہے نا؟

Halal and Haram by Qaisra Hayat


"آپا جی حلال حرام کیا ہوتا ہے؟" سدرہ نے ذکیہ آپا سے اچانک سوال کیا- اس کے اندر مسلسل کشمکش جاری تھی اس لیے اس نے آتے ہی سوال کیا- "ہر پاک شے حلال ہے اور ہر ناپاک حرام ہے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-

"اگر حلال اور کھانے پینے کی پاک شے چرا کر کھائی جائے تو کیا وہ حرام ہو جاتی ہے؟" سدرہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا-

"ہاں......ہر چرایا ہوا مال اور ایسی ہر چیز ناجائز اور حرام ہو جاتی ہے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-

"آپا جی حرام اور کیا ہوتا ہے؟" سدرہ نے پھر پوچھا-

"کسی کا حق چھین کر- کسی کے حق پر ناحق قبضہ کر کے اور ایسی کمائی جس میں اپنی محنت شامل نہ ہو ..... وہ حرام ہے اور اس کے علاوہ وہ سب چیزیں حرام ہیں جنھیں الله نے قرآن پاک میں واضح طور پر حرام ٹھہرایا ہے یعنی مردار خون، سور کا گوشت، شراب، جوا، بتوں کے چڑھاوے اور قسمت کا حال معلوم کرنے والے پانسے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-

"اس کے علاوہ........؟" سدرہ نے پھر پوچھا-

"کچھ حرمتیں رشتوں میں بھی ہیں......ان کا بھی ذکر قرآن پاک میں ہے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-

مومنہ پاس بیٹھی دونوں کی گفتگو سن رہی تھی-
"سدرہ ----- آج تم حلال و حرام کے بارے میں کیوں پوچھ رہی ہو؟" مومنہ نے حیرت سے پوچھا-

"مومنہ باجی میں بہت پریشان ہوں- جب لوگ جانتے بوجھتے ہوئے حرام کھاتے ہیں اور اس کو اپنا جائز حق سمجھتے ہیں ...... وہ الله کی حدوں کو جان بوجھ کر توڑتے ہیں اور انھیں احساس بھی نہیں ہوتا ....... آپا جی کیا الله ان کو معاف کر دے گا؟" سدرہ نے حیرت سے کھوئے ہوئے لہجے میں پوچھا-

"ایسے لوگوں پر الله کا غضب نازل ہوتا ہے ...... جانتی ہو بنی اسرائیل پر سبت یعنی ہفتے کے روز کا مچھلیوں کا شکار حرام کیا گیا تھا- اب مچھلیاں الله کا پیدا کردہ حلال گوشت ہیں اور قرآن پاک میں اسے لحما طریا یعنی تیرتا ہوا گوشت کہا گیا ہے ....... بہت پاک گوشت ہے مگر بنی اسرائیل والوں نے چالاکی کی اور جمعے کی رات کو جال ڈال دیتے، ہفتے کو شکار نہ کرتے اور اتوار کی صبح کو جال نکالتے تو جال مچھلیوں سے بھرے ہوتے ........ وہ اپنا مقصد بھی پورا کر لیتے اور الله کا حکم بھی ظاہراً مان لیتے ........ مگے خدا ان چالاکیوں کو جانتا ہے ........ اس نے ان پر ایسا غضب نازل کیا کہ ذلیل و خوار بندر بن گئے- خدا سب جانتا ہے، انسان کے دلوں میں چھپے مکر و فریب کو بھی اور پاک نیتوں کو بھی ...... آجکل لوگ حرام چیزوں کو اپنے فائدے کے لیے مختلف نام دے کر جائز اور حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ....... مگر حقیقت میں وہ الله کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں-" ذکیہ آپا نے تفصیلاً سمجھاتے ہوئے جواب دیا-

تحریر: قیصرہ حیات
اقتباس: پل صراط

Hazrat Khalid bin Waleed


حضرت خالد بن ولیدرضی الله عنہ قریش کے ایک معزز افراد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے آپ کو ’سیف اللہ‘یعنی'’اللہ کی تلوار‘' کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ جب آنحضور نے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیا

تو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر 17 برس تھی۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضور صلى الله عليہ وسلم کے دشمن تھے۔ بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ نے تلوار کے سائے میں پرورش پائی۔ اس لے وہ بہت پھرتیلے اورنڈر تھے۔ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔ ایک دفعہ بچپن میں حضرت عمر رضي الله عنہ کو پچھاڑ کر ان کی پنڈلی کی ہڈی توڑ دی تھی۔ خالد بن ولید رضي الله عنہ کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کےلئے تین ہزار صحابہ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔

اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد رضي الله عنه نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔

نبی پاک صلى الله عليہ وسلم کی وفات کے بعد صدیق اکبررضي الله عنہ کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ معرکہ یمامہ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسلیمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوج کو شکست دی۔ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ جب بستر علالت پر تھے تو آپ نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔

میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“

اس پر لوگوں نے ان کو یہ کہا کہ رسول اللہ نے آپ کو ”سیف اللہ“ یعنی ”اللہ کی تلوار“ کا خطاب عطا فرمایا ہے۔ آپ اگر کسی کافر کے ہاتھ سے مارے جاتے تو اس کا مطلب تھا کہ ایک دشمن خدا نے اللہ کی تلوار کو توڑ ڈالا.... جو ناممکن تھا۔

یہ سن کر آپ کو کچھ اطمینان نصیب ہوا۔

آپ نے جنگ احد سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک جتنی جنگیں لڑیں ان کی تعداد 41 ہے اور ان جنگوں میں آپ نے ایک جنگ بھی نہیں ہاری''۔

Extract from Gul Nokhez Akhtar


دنیا کا ذہین ترین انسان آئن سٹائن بچپن میں دماغ طور پر ایک کمزور انسان تھا، اُس کا سر موٹا اور زبان بولنے کی صلاحیت سے محروم تھی، بڑی مشکل سے کچھ الفاظ اٹک اٹک کر بولتا تھا جو بعض اوقات اُس کی ماں کو بھی سمجھ نہیں آتے تھے، کہا جاتا ہے کہ آئن سٹائن ’’آٹزم‘‘ کی بیماری میں مبتلا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ میں گم رہتا تھا اوراپنے معمولات میں کسی کی دخل اندازی پسند نہیں کرتا تھا،9 سال کی عمر تک وہ بولنے کی صلاحیت سے محروم رہا، تب اچانک ایک دن کھانے کی میز پر جب اُس کے سامنے سوپ رکھا گیا تو اُس نے سوپ کا پہلا چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا’’سوپ بہت گرم ہے‘‘۔ یہ سنتے ہی اُس کے والدین اچھل پڑے، خوشی سے بے حال ماں نے آئن سٹائن سے پوچھا کہ ایسے الفاظ تم نے کبھی پہلے کیوں نہیں بولے؟؟؟آئن سٹائن کا جواب تھا ’’اِس سے پہلے ہر چیز نارمل تھی اس لیے میں نہیں بولتا تھا‘‘۔اُس نے دوسری شادی مالیوا نامی خاتون سے کی، اِس شادی کی دلچسپ بات وہ معاہدہ ہے جو اُس نے اپنی بیوی کے ساتھ کیا، معاہدے میں طے پایا کہ اُس کی بیوی اُس کے کپڑے اور سامان ہمیشہ صاف اور بہترین حالت میں رکھے گی،تینوں وقت کا کھانا آئن سٹائن کو اُس کے کمرے میں دیا جائے گا،آئن سٹائن کے کمرے ، سٹڈی روم اور خاص طور پر اُس کی میز بالکل صاف رکھی جائے گی اور کوئی فالتوچیز یہاں نظر نہیں آئے گی، جب تک آئن سٹائن کا موڈ نہ ہو، بیگم اُس سے کوئی بات نہیں کرے گی، آئن سٹائن دیگر لوگوں کے سامنے اپنی بیگم سے لاتعلق رہے گا اورآخری شرط یہ تھی کہ ہمارے درمیان کچھ ضروری تعلقات کے علاوہ اور کوئی تعلق نہیں ہوگا۔۔۔ !!!ماشاء اللہ! غالباً یہی وہ مجاہدانہ اقدام ہیں جن کی بدولت آئن سٹائن نے اتنی ذہانت پائی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اگر آئن بھائی اپنی بیوی سے اتنا سخت رویہ نہ رکھتے اور نرمی سے پیش آتے تو صورتحال کیا ہونی تھی۔

بیوی: آئن۔۔۔ وے آئن۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: جی جان۔۔۔ کیاہوا؟؟؟
بیوی : وے کوکنگ آئل ختم ہوگیا ہے!!!
آئن سٹائن: اوہو۔۔۔ جان ابھی دو دن پہلے تو لایا تھا۔
بیوی: وے یاد کر۔۔۔ تجھے پانچ کلو کاڈبہ لانے بھیجا تھا اور تُو کلو والا پیکٹ لے آیا تھا۔
آئن سٹائن: اچھا تھوڑی دیر تک لادیتا ہوں، ذرا ایک سائنسی تھیوری لکھ لوں۔
بیوی: وے اگ لگے تیری سائنس کو۔۔۔ آئل لے کے آ ، اور ہاں ایک پیکٹ ماچسوں کا اور پانچ روپے کا ’’استنبول کا چھلکا‘‘ بھی لیتے آنا
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ بس صر ف آدھے گھنٹے کی مہلت دے دو،میری ریسرچ مکمل ہونے والی ہے۔
بیوی: دفع دور۔۔۔ جب دیکھو سائنس ،جب دیکھو سائنس۔۔۔ نہ تونے اتنی سائنس پڑھ کے کون سا عالم لوہار بن جانا ہے؟؟؟
آئن سٹائن: پلیز جان ایسا مت کہو۔۔۔ سائنس میری زندگی ہے، میں ہر وقت سائنس کے حصار میں رہتا ہوں۔
بیوی: ہا۔۔۔ ہائے۔۔۔ شادی سے پہلے تو تم نے کہا تھا کہ میں گڑھی شاہو میں رہتا ہوں؟؟؟
آئن سٹائن: اوہو جان، میرا مطلب ہے کہ میں ہروقت سائنس میں گم رہتا ہوں، سائنس میرا عشق ہے، میرا پیار ہے۔
بیوی: لخ لعنت ہے بھئی تیرے عشق پر۔۔۔ اگر اتنا بڑا سائنسدان ہے تو میری ایک بات کا جواب دے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: پوچھو جان۔۔۔ !!!
بیوی: عورت اگر واہیاتی پر اُتر آئے تو ورلڈ ریکار ڈ بنانے کے لیے کیا کچھ کرسکتی ہے؟
آئن سٹائن: پلیز جان۔۔۔ ایسے سوال مت پوچھو، میں آئن سٹائن ہوں، وینا ملک نہیں۔۔۔ !!!
بیوی: وے یہ تو بڑا آسان سا سوال تھا۔۔۔ چل یہ بتا میری وڈی خالہ کا السر کب ٹھیک ہوگا؟؟؟
آئن سٹائن: وہ۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے کیا پتا؟؟؟
بیوی: مجھے پہلے ہی پتا تھا تیرے جیسے نکمے بندے کو سواہ تے مٹی پتا ہونا ہے۔۔۔ روندا سائنس نوں۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: پپ۔۔۔ پلیز جان۔۔۔ اگر اجازت ہو تو تھوڑا کام کرلوں؟؟؟
بیوی: وے کام تونے کیا کرنا ہے، ویلیاں کھائی جاتا ہے، ہزار دفعہ کہا ہے

میرے تائے کے بیٹے کے ساتھ سبزی منڈی چلا جایا کر، وہ بھی بہت
بڑا سائنسدان ہے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: وہ کیا کرتاہے جان؟؟؟
بیوی: سبزی منڈی میں بڑے اور چھوٹے پیاز الگ الگ کرتاہے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: لاحول ولا قوۃ۔۔۔ جان کہاں وہ ، کہاں میں۔۔۔ !!!
بیوی: ظاہری بات ہے کہاں وہ روز کا دو سوروپیہ کمانے والا اور کہاں تُوسسرالیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔۔۔ !!!
آئن سٹائن : پلیز جان۔۔۔ ایسے تو نہ کہو۔۔۔ میرے سسرالی تو خود لنگر پر گذارہ کرتے ہیں۔۔۔ !!!
بیوی: کیا کہا؟۔۔۔ وے تیرا بیڑا غرق۔۔۔ تیری ریسرچ میں کیڑے پڑیں۔۔۔ وہ نہ مدد کریں تو تُو بھوکا مرجائے۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: اچھا پلیز جان۔۔۔ یہ لڑائی بعد میں کرلینا۔۔۔ میرا ذہن کسی اور طرف ہے۔۔۔ !!

بیوی: مجھے پہلے ہی شک تھا، سامنے والی ہمسائی کی کھڑکی بھی تھوڑی سی کھلی ہوئی ہے، سچ سچ بتا آئن سٹائن۔۔۔ تیرا ذہن کس کی طرف ہے؟جھوٹ بولا تو میں تیری سائنس بند کروں گی۔
آئن سٹائن: فار گاڈ سیک جان۔۔۔ میرے پاس ایسے کاموں کے لیے وقت نہیں، میرا دماغ توہر وقت اپنے سائنسی کام میں مگن رہتا ہے۔
بیوی: سب جانتی ہوں میں تیرے نکمے سائنسی دماغ کو۔۔۔ ٹی وی کا ریموٹ تو تجھ سے ٹھیک ہوتا نہیں، وڈا آیا سائنسدان۔۔۔ !!!
آئن سٹائن: (آہ بھر کر) ٹھیک ہے میری جان۔۔۔ آج سے سائنس ختم، کل سے میں بھی سبزی منڈی جایا کروں گا۔۔۔ !!!
بیوی: (خوشی سے) واقعی؟۔۔۔ ہائے آئن سٹائن۔۔۔ تم کتنے جینئس ہو۔۔۔ !!!

از گل نوخیز اختر