How to make a Giraffe smile :)
Posted by
Unknown
at
7/23/2013
How to make a Giraffe smile :)
2013-07-23T03:14:00+05:00
Unknown
Photography|
Comments
Labels:
Photography
Touch Side effects :D
Like a Boss
Women Driving... ...
Halal and Haram by Qaisra Hayat
"آپا جی حلال حرام کیا ہوتا ہے؟" سدرہ نے ذکیہ آپا سے اچانک سوال کیا- اس کے اندر مسلسل کشمکش جاری تھی اس لیے اس نے آتے ہی سوال کیا- "ہر پاک شے حلال ہے اور ہر ناپاک حرام ہے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-
"اگر حلال اور کھانے پینے کی پاک شے چرا کر کھائی جائے تو کیا وہ حرام ہو جاتی ہے؟" سدرہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا-
"ہاں......ہر چرایا ہوا مال اور ایسی ہر چیز ناجائز اور حرام ہو جاتی ہے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-
"آپا جی حرام اور کیا ہوتا ہے؟" سدرہ نے پھر پوچھا-
"کسی کا حق چھین کر- کسی کے حق پر ناحق قبضہ کر کے اور ایسی کمائی جس میں اپنی محنت شامل نہ ہو ..... وہ حرام ہے اور اس کے علاوہ وہ سب چیزیں حرام ہیں جنھیں الله نے قرآن پاک میں واضح طور پر حرام ٹھہرایا ہے یعنی مردار خون، سور کا گوشت، شراب، جوا، بتوں کے چڑھاوے اور قسمت کا حال معلوم کرنے والے پانسے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-
"اس کے علاوہ........؟" سدرہ نے پھر پوچھا-
"کچھ حرمتیں رشتوں میں بھی ہیں......ان کا بھی ذکر قرآن پاک میں ہے-" ذکیہ آپا نے جواب دیا-
مومنہ پاس بیٹھی دونوں کی گفتگو سن رہی تھی-
"سدرہ ----- آج تم حلال و حرام کے بارے میں کیوں پوچھ رہی ہو؟" مومنہ نے حیرت سے پوچھا-
"مومنہ باجی میں بہت پریشان ہوں- جب لوگ جانتے بوجھتے ہوئے حرام کھاتے ہیں اور اس کو اپنا جائز حق سمجھتے ہیں ...... وہ الله کی حدوں کو جان بوجھ کر توڑتے ہیں اور انھیں احساس بھی نہیں ہوتا ....... آپا جی کیا الله ان کو معاف کر دے گا؟" سدرہ نے حیرت سے کھوئے ہوئے لہجے میں پوچھا-
"ایسے لوگوں پر الله کا غضب نازل ہوتا ہے ...... جانتی ہو بنی اسرائیل پر سبت یعنی ہفتے کے روز کا مچھلیوں کا شکار حرام کیا گیا تھا- اب مچھلیاں الله کا پیدا کردہ حلال گوشت ہیں اور قرآن پاک میں اسے لحما طریا یعنی تیرتا ہوا گوشت کہا گیا ہے ....... بہت پاک گوشت ہے مگر بنی اسرائیل والوں نے چالاکی کی اور جمعے کی رات کو جال ڈال دیتے، ہفتے کو شکار نہ کرتے اور اتوار کی صبح کو جال نکالتے تو جال مچھلیوں سے بھرے ہوتے ........ وہ اپنا مقصد بھی پورا کر لیتے اور الله کا حکم بھی ظاہراً مان لیتے ........ مگے خدا ان چالاکیوں کو جانتا ہے ........ اس نے ان پر ایسا غضب نازل کیا کہ ذلیل و خوار بندر بن گئے- خدا سب جانتا ہے، انسان کے دلوں میں چھپے مکر و فریب کو بھی اور پاک نیتوں کو بھی ...... آجکل لوگ حرام چیزوں کو اپنے فائدے کے لیے مختلف نام دے کر جائز اور حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ....... مگر حقیقت میں وہ الله کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں-" ذکیہ آپا نے تفصیلاً سمجھاتے ہوئے جواب دیا-
تحریر: قیصرہ حیات
اقتباس: پل صراط
How to select your Toothpaste.
Pay attention when buying toothpaste,
at the bottom of the toothpaste tube
there is a color bar. And do you only know
the original meaning of the color bar!
Try to choose green and blue, there are four kinds:
Green: natural;
Blue : Natural + Medicine;
Red : Natural + Chemical composition;
Black : pure chemical.
please share to all......
Posted by
Unknown
at
7/22/2013
How to select your Toothpaste.
2013-07-22T23:06:00+05:00
Unknown
Information|
Comments
Labels:
Information
Sun rises in ..........
Hazrat Khalid bin Waleed
حضرت خالد بن ولیدرضی الله عنہ قریش کے ایک معزز افراد اور بنو مخزوم قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ رسول اللہ صلى الله عليہ وسلم نے آپ کو ’سیف اللہ‘یعنی'’اللہ کی تلوار‘' کا خطاب عطا فرمایا تھا۔ جب آنحضور نے اہل قریش کو بتوں کی پوجا سے منع کیا
تو سب آپ کے خلاف ہوگئے۔ اس وقت آپکی عمر 17 برس تھی۔ آپ بھی اپنے والد کے ساتھ حضور صلى الله عليہ وسلم کے دشمن تھے۔ بعد میں آپ نے اسلام قبول کیا۔
حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ نے تلوار کے سائے میں پرورش پائی۔ اس لے وہ بہت پھرتیلے اورنڈر تھے۔ کشتی، گھڑ سواری اور نیزہ بازی کے ماہر تھے۔ ایک دفعہ بچپن میں حضرت عمر رضي الله عنہ کو پچھاڑ کر ان کی پنڈلی کی ہڈی توڑ دی تھی۔ خالد بن ولید رضي الله عنہ کئی جنگوں میں شریک رہے۔ اسلام لانے کے بعد حاکم شام کا مقابلہ کرنے کےلئے تین ہزار صحابہ کی فوج تیار ہوئی اس میں آپ بھی شامل تھے۔ خونریز معرکہ ہوا مخالفین ایک لاکھ کی تعداد میں تھے۔ مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ہوا۔
اگلے روز اس لشکر کی کمان حضرت خالد رضي الله عنه نے اپنے ہاتھوں میں لی اور اعلیٰ جنگی اصولوں پر اپنی تھوڑی سی فوج مجتمع کیا اور حاکم شام کی ٹڈی دل فوج کو تہس ہنس کردیا اور فتح پائی۔
نبی پاک صلى الله عليہ وسلم کی وفات کے بعد صدیق اکبررضي الله عنہ کے دور میں آپ اسلامی لشکروں کی سپہ سالاری کے فرائض انجام دیتے رہے۔ معرکہ یمامہ میں آپ نے صرف تیرہ ہزار فوجیوں کے ساتھ مسلیمہ بن کذاب کی لاکھوں کی فوج کو شکست دی۔ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ جب بستر علالت پر تھے تو آپ نے قریب بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا۔” میں نے ان گنت جنگوں میں حصہ لیا۔ کئی بار اپنے آپ کو ایسے خطروں میں ڈالا کہ جان بچانا مشکل نظر آتا تھا لیکن شہادت کی تمنا پوری نہ ہوئی۔
میرے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہیں کہ جہاں تلوار‘ تیر یا نیزے کے زخم کا نشان نہ ہو۔ لیکن افسوس ! موت نے مجھے بستر پر آدبوچا۔ میدان کار زار میں شہادت نصیب نہ ہوئی۔“
اس پر لوگوں نے ان کو یہ کہا کہ رسول اللہ نے آپ کو ”سیف اللہ“ یعنی ”اللہ کی تلوار“ کا خطاب عطا فرمایا ہے۔ آپ اگر کسی کافر کے ہاتھ سے مارے جاتے تو اس کا مطلب تھا کہ ایک دشمن خدا نے اللہ کی تلوار کو توڑ ڈالا.... جو ناممکن تھا۔
یہ سن کر آپ کو کچھ اطمینان نصیب ہوا۔
آپ نے جنگ احد سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک جتنی جنگیں لڑیں ان کی تعداد 41 ہے اور ان جنگوں میں آپ نے ایک جنگ بھی نہیں ہاری''۔







